گم شدہ فون، ٹیبلٹ یا لیپ ٹاپ کا کیسے سراغ لگائیں

ایپل کی جانب سے اپنے صارفین کو “Find My Mac” نامی سروس فراہم کی جاتی ہے جس سے گم شدہ میک کمپیوٹرز کا سراغ لگایا جا سکتا ہے۔ تاہم مائیکروسافٹ کی جانب سے ونڈوز صارفین کے لیے ایسی کوئی سہولت دستیاب نہیں۔ حتیٰ کے ونڈوز 8 پر چلنے والے ٹیبلٹس کے لیے بھی نہیں!
اگر آپ ونڈوز استعمال کرتے ہیں اور خدانخواستہ کبھی آپ کا لیپ ٹاپ چوری یا گم ہو جائے اور آپ اس کا سراغ لگانا چاہیں تو اس کے لیے تھرڈ پارٹی سافٹ ویئر انسٹال کرنا پڑتا ہے۔ اس کام کے لیے کئی پروگرام قیمتاً دستیاب ہیں تو چند بہترین مفت بھی موجود ہیں۔
زیادہ تر ایسے پروگرامز لیپ ٹاپ کے ساتھ ساتھ اسمارٹ فون اور ٹیبلٹ کے لیے بھی دستیاب ہوتے ہیں۔

سراغ رساں پروگرام کیسے کام کرتے ہیں

ایک گم شدہ لیپ ٹاپ یا فون کا سراغ لگانے والی تمام سروسز کے کام کرنے کا طریقہ کار تقریباً ایک جیسا ہی ہوتا ہے۔ اس کے لیے ایک ٹریکنگ پروگرام انسٹال کرنا پڑتا ہے، پھر اس سروس کا ایک اکاؤنٹ بنانا پڑتا ہے تاکہ ڈیوائس کی گمشدگی کے بعد آپ ان کی ویب سائٹ پر اپنے اکاؤنٹ میں لاگ اِن کر کے ڈیوائس کا مقام جان سکیں اور اسے ریموٹلی کنٹرول کر سکیں۔
ایک بات یاد رکھیں کہ اسمارٹ فونز وغیرہ کے مقابلے میں لیپ ٹاپ کا سراغ لگانا قدرے مشکل کام ہے۔ کیونکہ اسمارٹ فون کے زیادہ امکان ہوتے ہیں کہ وہ موبائل ڈیٹا یا وائی فائی کے ذریعے انٹرنیٹ سے ضرور جڑے گا، اس طرح وہ انسٹال شدہ سراغ رساں پروگرام کے سرور پر رپورٹ بھیجے گا جس سے اس کے مقام کاتعین ہو سکتا ہے۔ جبکہ لیپ ٹاپ کے بارے میں تو یہ بھی نہیں کہا جا سکتا کہ وہ کب آن ہو گا۔ آن ہو جائے تو کب اس پر انٹرنیٹ چلایا جائے گا۔ اگر اس پر انٹرنیٹ نہ چلایا گیا تو اس کا سراغ لگانا ناممکن ہو جاتا ہے۔ اگرچہ یہ پروگرام صارف کو ذاتی نقصان سے بچنے کے چند اضافی فیچرز ضرور دیتے ہیں لیکن پھر بھی ایک فون کے مقابلے میں لیپ ٹاپ کا سراغ لگانا کافی مشکل کام ہے۔

سراغ رساں پروگرام کے فوائد

اگرچہ ہمارے ہاں چوری شدہ لیپ ٹاپ یا ڈیوائس کا واپس ملنا تقریباً ناممکن سی بات ہے لیکن پھر بھی کوشش کرنے میں کیا حرج ہے۔ اگر آپ ڈیوائس کے درست مقام سے آگاہ ہو جائیں تو کافی کچھ کیا جا سکتا ہے۔ کیونکہ یہ سراغ رساں پروگرام آپ کو صرف مقام ہی نہیں اور بھی کافی معلومات دیتے ہیں جیسے کہ ویب کیم یا ڈیوائس کے کیمرے سے تصاویر، ڈیسک ٹاپ کا اسکرین شاٹ، ویب براؤزنگ تفصیلات، ڈیوائس پر ٹائپ کی گئی تمام کیز۔اگر فون کی بات کی جائے تو ان پروگرامز میں کال لاگنگ اور ٹیکسٹ لاگنگ جیسے اہم فیچرز موجود ہوتے ہیں۔
اس حوالے سے مفت سروسز میں محدود فیچرز ہوتے ہیں جو کہ ایک عام صارف کے لیے کافی ہیں لیکن اگر قیمتاً دستیاب ورژن کو استعمال کیا جائے تو کئی ایڈوانس فیچرز ملتے ہیں جیسے کہ لیپ ٹاپ میں سے ریموٹلی فائلز ڈیلیٹ کرنے کی سہولت وغیرہ۔ اس کے علاوہ یہ ورژنز بالکل خفیہ موڈ میں بیک گراؤنڈ میں رہتے ہوئے کام کرتے ہیں جن سے ڈیوائس استعمال کرنے والا بالکل لاعلم رہتا ہے۔

پرے (Prey)

http://preyproject.com
پرے کی جانب سے ایک ٹریکنگ سافٹ ویئر ونڈوز، میک اور لینکس کے لیے مفت دستیاب ہے۔ اس کے علاوہ پرے ایپلی کیشن اینڈروئیڈ اور آئی او ایس کے لیے بھی موجود ہے۔ یعنی ایک ہی سروس آپ اپنے لیپ ٹاپ اور دیگر ڈیوائسز کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔
اس سروس کے پروفیشنل پلانز بھی موجود ہیں جو کہ قیمتاً دستیاب ہیں۔ لیکن ایک عام صارف کے لیے لیپ ٹاپ یا ڈیوائس کا سراغ لگانے کے لیے صرف ٹریکنگ سروس کافی ہے جو کہ مفت ورژن میں موجود ہے۔ مفت اکاؤنٹ میں تین ڈیوائسز کنفیگر کی جا سکتی ہیں۔

پرے اسمارٹ فون ایپلی کیشن

اسمارٹ فون کو چوروں کے شر سے محفوظ رکھنے کے لیے ’’پرے‘‘ سب سے بہترین اور مکمل ایپلی کیشن مانی جاتی ہے۔ اس بات کا ثبوت آپ ایپ اسٹور میں اس کے صارفین کی تعداد سے بھی لگا سکتے ہیں۔
اس ایپلی کیشن کی انسٹالیشن کے بعد فون یا ٹیبلٹ کو ریموٹلی کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ درج فوائد بھی حاصل کیے جا سکتے ہیں:
جیولوکیشن کی مدد سے نقشے پر فون کے مقام سے آگاہ ہوا جا سکتا ہے۔
فون کے فرنٹ اور بیک دونوں کیمروں سے تصاویر بنائی جا سکتی ہیں۔
ڈیوائس کو کسی بھی قسم کی چھیڑ چھاڑ سے بچانے کے لیے لاک کیا جا سکتا ہے۔
فون کے سائلنٹ پر ہونے کے باوجود ایک تیز الارم بجایا جا سکتا ہے۔
فون اسکرین پر الرٹ میسج دکھایاجا سکتا ہے۔
ڈیوائس پر استعمال ہونے والے نیٹ ورک کی معلومات حاصل کی جا سکتی ہے۔

پرے سافٹ ویئر

اب بات کرتے ہیں لیپ ٹاپ کی۔ پرے پروگرام ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے اس کی ویب سائٹ پر جائیں اور اپنے آپریٹنگ سسٹم کے اعتبار سے اسے ڈاؤن لوڈ کر لیں۔ ونڈوز کے لیے دستیاب پروگرام کا سائز 5.5 ایم بی ہے۔ اس کے لیے کم از کم درکار آپریٹنگ سسٹم ونڈوز ایکس پی ہے۔
اس کی انسٹالیشن صرف چند کلکس کی متقاضی ہے۔پرے دوسروں کی دسترس سے محفوظ رکھنے کے لیے کسٹم لوکیشن پر انسٹال کیا جاتا ہے۔ آپ اسے جس ڈرائیو یا فولڈر میں چاہیں انسٹال کر سکتے ہیں۔

Prey01
انسٹالیشن کے دوران ایک آپشن پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔ جہاں پوچھا جاتا ہے کہ کیا آپ پرے کو کھولنے کے لیے شارٹ کٹس بنانا چاہتے ہیں؟

یہاں آخر میں موجود آپشن Do not create shortcuts کے ساتھ موجود باکس میں چیک لگانے سے آپ اس پروگرام تک کسی اور کا پہنچنا مشکل بنا سکتے ہیں۔ اس طرح اگر کسی کو اس طرح کے سراغ رساں پروگرامز کے بارے میں پتا بھی ہو گا تو اس کا پرے تک پہنچنا کچھ مشکل ہو جائے گا۔

Prey02
جس فولڈر میں اسے انسٹال کیا جائے وہاں آپ دیکھیں تو آپ خود نہیں پہچان پائیں گے کہ یہ پروگرام انسٹال ہوا ہے۔ کیونکہ یہاں سامنے ایسی کوئی فائلز موجود نہیں ہوتیں جس سے کوئی اس کے بارے میں اندازہ کر سکے۔

اس کا موجودہ ورژن 0.6.4 ہے۔ اس کی انسٹالیشن کے بعد جب پرے کی ویب سائٹ پر اپنے سسٹم کی رپورٹس دیکھنے کے لیے جائیں تو یہ تازہ ورژن انسٹال کرنے کا کہتا ہے۔ تازہ ورژن فی الحال بے ٹا ہے لیکن آپ کو انسٹال کرنا ہو گا جو کہ ورژن 1.0.8 ہے اور اس کا سائز 5.7 ایم بی ہے۔ یہ ورژن ڈاؤن لوڈ کر کے انسٹال کریں تو یہ پہلے موجود ورژن کو اپ گریڈ کر دیتا ہے۔
انسٹالیشن مکمل ہوتے ہی نیا پرے یوزر اکاؤنٹ بنانے کا کہا جاتا ہے۔ قوی امید ہے کہ آپ کے پاس پہلے سے اس کا اکاؤنٹ نہیں ہو گا اس لیے New user کے ریڈیو بٹن پر چیک لگاتے ہوئے Next کے بٹن پر کلک کر دیں۔

Prey03
اگر آپ کو اکاؤنٹ بنانے میں کوئی مسئلہ ہو تو اس کی ویب سائٹ پر جا کر بھی مفت اکاؤنٹ بنایا جا سکتا ہے۔

Prey04
اکاؤنٹ بنانے کے بعد جیسے ہی پرے میں لاگ اِن کریں یہ فوراً کام کرنا شروع کر دیتا ہے۔ پرے بطور ونڈوز سروس چلتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ بیک گراؤنڈ میں چلتا ہے، ٹاسک بار یا نوٹی فکیشن ایریا میں اس کا کوئی آئی کن موجود نہیں ہوتا کہ جس سے معلوم ہو کہ یہ چل رہا ہے۔

اگر آپ اسے کنفیگر کرنا چاہیں اس کی انسٹالیشن ڈائریکٹری میں پلیٹ فارم فولڈر کے اندر موجود ونڈوز کے فولڈر میں آ کر prey-config.exe فائل کو چلائیں۔
Options for Execution کے آپشن میں آ کر رپورٹس اور ایکشنز کی فریکوئنسی سیٹ کی جا سکتی ہے کہ لیپ ٹاپ گم ہو جائے تو ہر کتنے دورانیے کے بعد یہ سرور کو رپورٹ کرے۔
اس کے علاوہ آپ یہاں دیکھ سکتے ہیں کہ پرے کو بطور ونڈوز سروس چلنے کی اجازت دی گئی ہے۔ اس طرح یہ کمپیوٹر کے چلتے ہی خود بخود چل جاتا ہے اور اسے روکنا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔

گم شدہ لیپ ٹاپ ٹریک کریں

پرے کی انسٹالیشن و کنفگریشن مکمل ہو جانے کے بعد اب مرحلہ آتا ہے کہ ایک گم شدہ لیپ ٹاپ کو اس کی مدد سے کیسے ٹریک کریں۔
اس کام کے لیے پرے پروجیکٹ کی ویب سائٹ پر جا کر لاگ اِن ہو جائیں۔
panel.preyproject.com
لاگ اِن ہونے کے لیے وہی تفصیلات استعمال کریں جو آپ نے پرے کو انسٹال کرنے کے بعد نیا اکاؤنٹ بنا کر حاصل کی تھیں۔
لاگ ان ہونے کے بعد آپ دیکھیں گے کہ لیپ ٹاپ یا دیگر ڈیوائسز جو آپ نے اس میں شامل کی تھیں وہ یہاں موجود ہوں گی۔

Prey05
اگر آپ کا لیپ ٹاپ گم ہو چکا ہے تو پرے کنٹرول پینل میں موجود اس کے نام پر کلک کریں۔ اگلے پیج پر Locate Device اور My device is missing کے بٹنز موجود ہیں۔ اگر آپ ڈیوائس کے مقام سے آگاہ ہونا چاہتے ہیں تو پہلے بٹن پر کلک کریں۔ اگر آپ کا لیپ ٹاپ گم یا چوری ہو چکا ہے تو ’’مائی ڈیوائس از مسنگ‘‘ کا آپشن استعمال کریں۔

Prey06
یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ پرے صرف ڈیوائس کے گم شدہ ہونے کی صورت میں اس کے مقام کو ٹریک کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ یعنی یہ ہر وقت لیپ ٹاپ یا ڈیوائس کو ٹریک نہیں کر رہا ہوتا۔ جب آپ اسے گم شدہ یعنی Missing رپورٹ کرتے ہیں تبھی یہ اس کا سراغ لگانے کی کوششیں شروع کر دیتا ہے۔
اس کے علاوہ بھی پرے کے ذریعے چند ایکشنز استعمال کیے جا سکتے ہیں جیسے کہ الارم، میسج اور لاک۔

Prey07

الارم

الارم اس صورت میں کارآمد ہے جب آپ کی ڈیوائس یا لیپ ٹاپ قریب ہی کہیں موجود ہو۔ اس طرح بجنے والا الارم سن کر آپ اس کے مقام سے آگاہ ہو سکتے ہیں۔ فون کے مقابلے میں لیپ ٹاپ کو الارم بھیجنا زیادہ کارآمد نہیں ہوتا کیونکہ الارم بجانے کی ہدایت موصول کرنے کے لیے لیپ ٹاپ کا آن اور انٹرنیٹ سے جُڑا ہونا ضروری ہے۔
اگر الارم کا آپشن استعمال کریں تو یہ لیپ ٹاپ اسپیکرز کی پوری قوت سے ایک ساؤنڈ تیس سیکنڈ کے لیے بجاتا ہے۔ الارم میں مختلف ساؤنڈز جیسے کہ سائرن وغیرہ استعمال کیے جا سکتے ہیں۔

Prey08

پیغام بھیجیں

Send message کے آپشن پر کلک کر کے آپ کوئی بھی پیغام بھیج سکتے ہیں جیسے کہ اپنا ای میل ایڈریس یا فون نمبر کہ اس کے ذریعے آپ سے رابطہ کر کے ڈیوائس واپس پہنچائی جا سکے۔

Prey09
پیغام محفوظ کر لیا جاتا ہے اور لیپ ٹاپ کے انٹرنیٹ سے جڑتے ہی پرے آپ کا پیغام کمپیوٹر استعمال کرنے والے کو پہنچا دیتا ہے۔

Prey09-2

لاک

ڈیوائس کو لاک کرنے کا آپشن بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ لاک کرنے کا حکم صادر کرتے ہوئے آپ کو ایک پاس ورڈ بھی دینا ہوتا ہے کہ جب تک یہ پاس ورڈ نہ دیا جائے سسٹم اَن لاک نہ ہو۔

Prey10
لاک کرنے کا آپشن بہت اچھے طریقے سے کام کرتا ہے۔ جیسے ہی سسٹم پر موجود پرے کو سسٹم لاک کرنے کا حکم ملتا ہے سسٹم لاک ہو جاتا ہے۔ ایک کالی اسکرین سامنے آجاتی ہے جس پر پاس ورڈ ٹائپ کرنے کی فیلڈ موجود ہوتی ہے۔ جب تک درست پاس ورڈ نہ ٹائپ کریں سسٹم اَن لاک نہیں ہوتا۔
یہ لاک کافی مضبوط ہوتا ہے یعنی ٹاسک منیجر یا کنٹرول آلٹر ڈیلیٹ وغیرہ سے اس کا توڑ نہیں کیا جا سکتا۔

Prey10-2

ڈیوائس کی تلاش

لیپ ٹاپ کو گم شدہ قرار یعنی My device is missing کے بٹن پر کلک کرتے ہی پرے رپورٹس جمع کرنے کا کام شروع کر دیتا ہے۔ جیسے ہی لیپ ٹاپ پر انٹرنیٹ چلے گا، پرے سافٹ ویئر اپنے سرور سے رابطہ کر کے اپنے لیے دستیاب ہدایات کے بارے میں جانے گا۔ جب اسے پیغام ملے گا کہ لیپ ٹاپ کو گم شدہ قرار دے دیا گیا ہے یہ فوراً رپورٹ بنانے کا کام شروع کر دے گا۔
آپ کو ایک دفعہ پھر بتا دیں کہ رپورٹ اسی صورت میں موصول ہو گی جب لیپ ٹاپ آن ہو گا، اس پر انٹرنیٹ چل رہا ہو گا اور پرے بدستور اس پر انسٹال ہو گا۔
پرے کے خریدے گئے ورژن میں یہ سہولت دستیاب ہے کہ جب چاہیں رپورٹ حاصل کی جا سکتی ہے جبکہ مفت ورژن میں رپورٹ کے لیے درخواست کی جاتی ہے جس کے موصول ہونے میں کچھ وقت لگ سکتا ہے، لیکن رپورٹ ملتی ضرور ہے اس لیے مفت ورژن استعمال کرتے ہوئے بھی پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔
جیسے ہی رپورٹ موصول ہو گی آپ کو بذریعہ ای میل آگاہ کر دیا جائے گا۔ ای میل میں رپورٹ کا لنک بھی موجود ہو گا۔ اس کے علاوہ آپ کے پرے اکاؤنٹ میں الرٹ موجود ہو گا کہ رپورٹ آ چکی ہے۔ رپورٹ میں آپ کی ہدایت کے مطابق معلومات موجود ہو گی مثلاً لیپ ٹاپ کا جیوگرافک مقام، نیٹ ورک اسٹیٹس، آئی پی ایڈریس، کمپیوٹر کے ڈیسک ٹاپ کا اسکرین شاٹ اور ویب کیم کے ذریعے کمپیوٹر استعمال کرنے والے کی تصویر۔

Prey11-2
آپ کے مقرر کردہ دورانیے جیسے کہ ہر پانچ منٹ بعد ایک رپورٹ بنانے کا کام شروع ہو جائے گا اور انٹرنیٹ دستیاب ہونے کی صورت میں آپ کو فوراً رپورٹس مل جائیں گی۔ ان رپورٹس میں سب سے دلچسپ چیز ڈیسک ٹاپ کا اسکرین شاٹ اور لیپ ٹاپ استعمال کرنے والے کی ویب کیم سے بننے والی تصویریں ہوتی ہیں۔ جبکہ باقی معلومات بھی بہت اہم ہوتی ہے۔
پرے اسی پر بس نہیں کرتا بلکہ جب تک آپ رپورٹس کو بند نہیں کرتے یہ مسلسل ڈیوائس سے رپورٹس حاصل کرتا رہتا ہے جو کہ ڈیوائس تک پہنچنے میں انتہائی مددگار ثابت ہوتی ہیں۔

ایک گم شدہ لیپ ٹاپ کا سراغ حاصل کرنے کے لیے یہ معلومات کافی حد تک مددگار ہو سکتی ہے۔ امید کی جا سکتی ہے کہ آپ تھوڑی سی تگ و دو کے بعد لیپ ٹاپ کا نہ صرف سراغ لگانے کے قابل ہو جائیں گے بلکہ اسے واپس بھی حاصل کر سکیں گے۔
جب آپ کی گمشدہ ڈیوائس بازیاب ہو جائے تو Device Recovered کے بٹن پر کلک کر کے پرے کو مزید رپورٹس جمع کرنے سے روکا جا سکتا ہے۔
اگر آپ لیپ ٹاپ استعمال کرتے ہیں تو یقیناً یہ آپ کے لیے ایک قیمتی اثاثے سے کم نہیں ہو گا۔ اس لیے اس کی حفاظت کے لیے ایسے سکیوریٹی پروگرامز ضرور استعمال کریں۔ یہاں LoJack for Laptops کا ذکر کرنا بھی ضروری ہے۔ اگرچہ یہ ایک قیمتاً دستیاب پروگرام ہے لیکن اسے خریدنا کسی بھی طرح گھاٹے کا سودا نہیں کیونکہ یہ لیپ ٹاپ کی بایوس میں شامل ہو جاتا ہے۔ اس طرح اسے ڈیلیٹ کرنا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔
لیپ ٹاپ اور اسمارٹ فونز کے لیے یہ پروگرام 15ڈالر سالانہ کے عوض دستیاب ہے۔ مزید تفصیل کے لیے اس کی ویب سائٹ ملاحظہ کیجیے:
http://lojack.absolute.com

(یہ تحریر کمپیوٹنگ شمارہ اپریل 2014 میں شائع ہوئی)

5 تبصرے
  1. sam says

    agar laptop chori ho jae or chor foran new window kr le to kya track ho ga phr b?
    ya smart phon ka software ho jae chori hotay hi to ho ga track?

  2. babur dasti says

    plz Send me your Contect number. 03355641212……>Alamdar Husain

  3. shahbaz says

    hai

  4. Asmat Ali says

    یہ فون کے لئے تو کار آمد ہے، لیکن کیا لیپ ٹاپ کے لئے بھی یہ اتنا ہی کار آمد ہے؟ کیا نئی ونڈو انسٹال کرکے چوری کرنے والا اس سے جان نہیں چھڑا سکتا؟

  5. Muhammad Ausama Bin Hasam says

    اگر چور موبائل کو ریسٹور کر لے تو کیا یہ پروگرام کام کرے گا

Comments are closed.