200 ملین ڈالرز میں خریدی گئی سوشل میڈیا سروس بند کردی گئی

1,281

یہ سوشل میڈیا پر اثرات رکھنے والوں، اور اس کے خواہشمندوں، کے لیے ایک عہد کا خاتمہ ہے۔ 2011ء کے اریب قریب کے سب سے نمایاں ٹیکنالوجی اسٹارٹ اپس میں سے ایک ‘کلاؤٹ‘ (Klout) نے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنی سروس بند کر رہا ہے۔

کلاؤٹ 2009ء میں جو فرنانڈز نے بنایا تھا، شاید ٹوئٹر میں ملازمت حاصل کرنے کے لیے۔ لیکن اہمیت اور اثر انگیزی کی بنیاد پر سوشل میڈیا صارفین کو درجہ بندی دینے کا ان کا خیال زیادہ مضبوط ثابت ہوا اور وہ وینچر فنڈنگ میں چار مراحل تک گئے یہاں تک کہ 40 ملین ڈالرز تک کا سرمایہ حاصل کرلیا۔

بالآخر 2014ء میں انہوں نے کلاؤٹ 200 ملین ڈالرز میں لیتھیئم ٹیکنالوجیز کو فروخت کیا، جو اب اس کی سروسز بند کر رہا ہے۔ لیتھیئم ایک نجی ادارہ ہے جو ڈجیٹل مارکیٹنگ ٹولز بناتا ہے۔

کلاؤٹ نے صارفین کے لیے ممکن بنایا کہ وہ اپنے فیس بک اور ٹوئٹر ڈیٹا کو شیئر کریں، جس کے ذریعے وہ شہرت کا سادہ اسکور پیش کرتا تھا، 1 سے 100 تک، جسے "کلاؤٹ اسکور” کہا جاتا تھا۔ کچھ اس طرح:

لیتھیئم کے سی ای او پیٹ ہیس نے گزشتہ روز صارفین کو ای میل کے ذریعے اس بندش کی اطلاع دی۔ ان کا کہنا تھا کہ کلاؤٹ کے حصول نے لیتھیئم کو بہت اہم مصنوعی ذہانت (AI) اور مشین لرننگ صلاحیتیں دیں لیکن کلاؤٹ ایک جداگانہ سروس کی حیثیت سے ادارے کی طویل المیعاد حکمت عملی کا حصہ نہیں ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ کلاؤٹ اسکور واقعی کسی صارف کی بھی طویل المیعاد حکمت عملی کا حصہ نہیں ہیں، الّا یہ کہ آپ بہت بڑے ‘ٹوئٹر اسٹار’ ہوں۔ وہ دن گزر گئے جب کلاؤٹ اسکورز ٹیکنالوجی سے وابستہ افراد کے لیے، بالخصوص ٹوئٹر کی "لت” میں مبتلا، بڑی چيز ہوا کرتے تھے، وہ دن لد گئے تو کلاؤٹ کا بھی وقت پورا ہوگیا۔