2018ء میں اسمارٹ فون کیسے خریدیں؟

18,107

آپ ایک نیا اسمارٹ فون خریدنا چاہتے ہیں تو غالب امکان یہی ہے کہ آپ سب سے پہلے اپنی جیب کو دیکھیں گے۔ لیکن صرف جیب ہی نہیں کئی ایسے پہلو ہیں جو فون خریدتے ہوئے بہت اہم سمجھے جاتے ہیں۔ نئے فون کی خریداری میں جن مختلف پہلوؤں پر غور کرنا چاہیے، آئیے ایک، ایک کرکے ان پر غور کرتے ہیں:

برانڈ کی ساکھ

جدید ترین ہارڈویئر اور اچھے فیچرز کی موجودگی کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ یہ فون استعمال کے لیے محفوظ ہے۔ اگر موبائل فون کسی اچھی ساکھ رکھنے والے برانڈ کا نہیں ہے تو چاہے کتنا ہی سستا کیوں نہ ہو، خریدنے سے اجتناب کریں۔ چین کے کئی برانڈز سکیورٹی اور پرائیویسی کے معاملات میں بدنام ہیں بلکہ زیڈ ٹی ای جیسے برانڈز کو تو امریکا میں پابندی اور ہواوی کو چند ممالک میں مسائل کا سامنا ہے۔ ان کمپنیوں پر الزام ہے کہ یہ صارفین کا نجی ڈیٹا حاصل کرتی ہیں اور انہیں کسی کے ساتھ شیئر کرتی ہیں۔

ڈسپلے ریزولیوشن

اگر آپ کا زیادہ تر وقت اسمارٹ فون کی اسکرین دیکھتے ہوئے گزرتا ہے تو کسی بڑی اسکرین والے فون کا انتخاب کریں اور ایک پہلو ذہن میں رکھیں کہ ڈسپلے ریزولیوشن کتنا ہے۔ اگر آپ 5 انچ سے زیادہ بڑی اسکرین والا کوئی موبائل خرید رہے ہیں تو زیادہ ریزولیوشن (تقریباً 2560 ضرب 1440 پکسلز) والے کا انتخاب کریں۔ اگر یہ آپ کے بجٹ میں ممکن نہ ہو تو 1920 ضرب 1080 پکسلز سے ہرگز کم نہ ہو۔ ڈسپلے ریزولیوشن اس لیے اہم ہے کیونکہ اس سے آپ کو تفصیلی گرافکس دیکھنے میں مدد ملے گی۔ پھر ایسے ڈسپلے دھوپ میں اور گھر سے باہر بھی اچھی طرح کام کرتے ہیں۔

آپریٹنگ سسٹم

اینڈرائیڈ اور آئی او ایس کے مقابلے کی بحث پرانی ہے۔ اس لیے پہلے تو یہ سمجھ لیں کہ آپ کی خاص ضرورت کیا ہے۔ کیونکہ اینڈرائیڈ اور آئی او ایس دونوں کئی فیچرز پیش کرتے ہیں، ہزاروں ایپس کی بھی سہولت دیتے ہیں۔ اینڈرائیڈ اور آئی او ایس کے مختلف ورژنز دستیاب ہیں جو مختلف فیچرز رکھتے ہیں۔ ہر سال گوگل اور ایپل دونوں اپنے ان آپریٹنگ سسٹمز کے نئے ورژن جاری کرتے ہیں۔ آئی او ایس میں آپ کو یہ اپڈیٹس فروخت کے لیے موجود تمام ڈیوائسز پر ملتے ہیں جبکہ اینڈرائیڈ میں ایسا نہیں۔ اس کے صارفین کی بڑی تعداد کو یہ معلوم نہیں ہوتا کہ انہیں تازہ ترین اینڈرائیڈ ورژن کب ملے گا۔ یہاں تک کہ بڑے ادارے بھی بسا اوقات نہیں بتا پاتے کہ ان کے کسی فون کا سافٹویئر اپگریڈ ہوگا یا نہیں۔ یہ مسئلہ سستے اور درمیانی قیمت کے اینڈرائیڈ فونز میں تو عام ہے۔ بہرحال، اینڈرائیڈ کی اپنی خوبیاں ہیں اور آئی او ایس کی اپنی، انتخاب اس بنیاد پر کریں کہ آپ کو کس کی ضرورت ہے۔

کارکردگی

ریم اور پروسیسر یہ طے کرتے ہیں کہ کسی فون کی کارکردگی کیسی ہوگی۔ لیکن آپ کو دیگر عوامل پر بھی نگاہ رکھنا ہوگی جیسا کہ سسٹم سافٹویئر اور فون بنانے والے ادارے کی جانب سے کی گئی کسٹمائزیشن بھی ڈیوائس کی کارکردگی کو طے کرتی ہے۔ اگر سافٹویئر اچھی طرح آپٹمائز نہیں کیا گیا تو فون کی کارکردگی پر برا اثر پڑے گا۔ موجودہ صورت حال میں آپ کو کم از کم 2 جی بی ریم والا فون خریدنا چاہیے۔ زیادہ تر ایپلی کیشنز، گیمز اور سسٹم سافٹویئر 2 جی بی ریم پر خوب چلتے ہیں، اگر انہیں اچھے پروسیسر کا ساتھ بھی حاصل ہو۔ اینڈرائیڈ فونز کی بڑی تعداد آجکل کویلکوم کے بنائے گئے اسنیپ ڈریگن پروسیسرز پر چلتی ہے اور جدید ترین پروسیسر رکھنے والے فونز مہنگے بھی ہیں۔ ایپل کے فونز اس کی اپنی بنائی گئی چپس کے حامل ہوتے ہیں اور بلاشبہ کارکردگی میں آئی فون بہت جاندار ہوتے ہیں۔

بیٹری

آپ کے فون کی اسکرین کا سائز، پروسیسر کی جنریشن، وائی فائی اور جی پی ایس کا استعمال اور دیگر عوامل طے کرتے ہیں کہ فون کی بیٹری کتنی دیر چلے گی۔ اگر آپ ہمیشہ وائی فائی، جی پی ایس اور بلوٹوتھ کھول کر رکھتے ہیں تو آپ کو زیادہ بڑی بیٹری کی ضرورت ہوگی۔ ویسے اب ایسے پروسیسر بنائے جا چکے ہیں جو اتنی بیٹری نہیں کھاتے۔ اس لیے نئی جنریشن کے پروسیسرز پر نظر رکھیں۔

دیگر عوامل

جب آپ نے کوئی اسمارٹ فون خریدنا ہو تو چند مزید باتیں بھی ذہن میں رکھیں۔ فون محض اس لیے نہ خریدیں کہ ہر کوئی اس کے بارے میں بات کر رہا ہے بلکہ پوری توجہ اپنی ضروریات پر رکھیں۔ سوچیں کہ آپ کو کالنگ اور میسیجنگ کے علاوہ کیا کچھ کرنے کی ضرورت ہے؟ کیا کیمرا آپ کی ترجیحات میں شامل ہے؟ اگر ہے تو صرف میگا پکسل ہی کو نہ دیکھیں بلکہ اپرچر، لینس کوالٹی اور کیمرا سافٹویئر کو بھی دھیان میں رکھیں۔ اگر آپ پائیدار فون چاہتے ہیں تو گلاس باڈی رکھنے والے فون خریدنا بیکار ہے۔ اگر پھر بھی خریدنا ہے تو گلاس پروٹیکٹر لازمی لگوائیں۔ اور ہاں! اگر refurbished فون خرید رہے ہیں تو کافی چھان پھٹک کر لیں۔