2020ء تک 30 فیصد انٹرنیٹ سرچ آواز کے ذریعے ہوگی

829

کیا آپ نے بھی ایمیزن الیگزا یا گوگل ہوم یا ہوم منی خریدا ہے؟ صرف آپ نے ہی نہیں لاکھوں صارفین نے ایسے ورچوئل اسسٹنٹ خریدے ہيں۔ ایمیزن کے بیان کےمطابق کئی ملین یونٹس فروخت ہوئے ہیں بلکہ ایکو ڈاٹس (Echo Dots) تو ایمیزن کی سب سے زیادہ فروخت ہونے والی مصنوعات میں شامل ہو گیا ہے۔

اب روزمرہ زندگی میں سری (Siri) اور الیگزا (Alexa) جیسے ورچوئل اسسٹنٹس کا استعمال کافی بڑھ گیا ہے اور اس نے صارفین کے ویب براؤز کرنے کے طریقوں کو ہی بدل دیا ہے۔

گارٹنر نے پیش گوئی کی ہے کہ 2020ء تک 30 فیصد براؤزنگ سیشنز آواز کے ذریعے کیےجائیں گے۔ لکھ کر سرچ کرنے کے بجائے صارفین آواز کے ذریعے اِن پٹ دے رہے ہیں اور یہ براؤزنگ کے نئے دور کا آغاز ہے۔

بہرحال اس وقت انگریزی بولنے والے ممالک کے علاوہ وائس سرچ اتنے بڑے پیمانے پر دستیاب نہیں ہے۔ جیسا کہ ڈچ بولنے والے ممالک کو ہی دیکھ لیں کہ جہاں واحد وائس اسسٹنٹ جو ان کی زبان کو سپورٹ کرتا ہے سری ہے – جو ایپل کے ہوم پوڈ میں نصب ہے۔ البتہ گوگل کےڈچ بولنے والے ورژن اس سال جاری ہونے والے ہیں۔

بلاشبہ وائس اسسٹنٹس کا دور شروع ہو رہا ہے۔ 2015ء میں گوگل ناؤ، سری اور کورٹانا (Cortana) جیسے ورچوئل اسسٹنٹس نے صفر سے آغاز لیا اور آج سرچ مارکیٹ کے 10 فیصد حصے پر قابض ہوگئے ہیں۔ گلوبل ویب انڈیکس کے مطابق 16 سے 24 سال کے صارفین میں سے 25 فیصد موبائل پر وائس سرچ استعمال کرتے ہیں۔ وائس سرچ میں ان کا رحجان سوالیہ فقروں کی جانب زیادہ ہے جیسا کہ ان کے جملے "کون”، "کیا”، "کب”، "کہاں”، "کیوں” اور "کس طرح” سے شروع ہوتے ہیں جیسا کہ اگر لکھیں گے تو شاید یہ سرچ کریں "پاکستان کرکٹ ٹیم شیڈول” جبکہ بولنے میں "پاکستان کرکٹ ٹیم اپنا اگلا میچ کب کھیلے گی؟” ۔

ٹیکسٹ اِن پٹ اور وائس سرچ میں اور بھی فرق ہے۔ سب سے پہلا یہ کہ نتائج صارف کی لوکیشن کے اعتبار سے ہوتے ہیں۔ اگر دو صارفین ایک ایمسٹرڈیم اور دوسرا برلن سے پوچھتا ہے کہ "پیزا کھانے کے لیے کہاں جاؤں؟” تو یقیناً انہیں دو بالکل مختلف جواب ملیں گے۔ اس کے علاوہ وائس سرچ میں نتائج بھی کم ملتے ہیں۔ عام طور پر وائس سرچ چار صفحات نکالت اہے تاکہ صارف کو پیجز کے درمیان اسکرول نہ کرنا پڑے۔ اس لیے ایسے لنکس پر کلک کرنے کا رحجان بہت زیادہ ہوتا ہے اور اسی وجہ سے کاروباری ادارے چاہتے ہیں کہ وہ سرچ کے ان نتائج میں موجود ہوں۔

اس کے لیے کاروباری اداروں کو کچھ کام کرنا ہوں گے جیسا کہ مقامی SEO حکمت عملی اپنانا ہوگی، اپنی ویب سائٹ اور کونٹینٹ کے موبائل فرینڈلی بنانا ہوگا اور سب سے بڑھ کر مقابلے کی فضاء پر نظر رکھنا ہوگی۔ تو کیا سب مستقبل کے انقلاب کے لیے تیار ہیں؟