ساڑھے 4 ہزار میل سڑک پر وائی فائی کی تنصیب کا منصوبہ

1,870

برطانیہ 2021ء تک بغیر سیفٹی ڈرائیور کی حامل خودکار گاڑیاں لانچ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اس ہدف کے حصول کے لیے محض آٹو ٹیکنالوجی کو جدید بنانا ہی کافی نہیں بلکہ ملک کی سڑکوں کو بھی بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔

ہدف کے حصول کے لیے ملکی موٹرویز کو چلانے اور دیکھ بھال کرنے کے ذمہ دار سرکاری ادارے ‘ہائی ویز انگلینڈ’ نے ایک تجویز پیش کی ہے جس کے مطابق 4400 میل سڑکوں کے ساتھ ہائی اسپیڈ فائبر آپٹک کیبل نصب کی جائے گی۔ یہ انگلینڈ کی موٹرویز کو جدید تر بنانے کی 15 ارب پاؤنڈز کے منصوبے کا حصہ ہے تاکہ مستقبل کے لیے گاڑیوں اور نقل و حمل کی ضروریات کو پورا کیا جا سکے۔ اگر یہ تجاویز منظور کرلی گئی تو کام کا آغاز 2020ء میں ہو جائے گا۔

گو کہ موجودہ سیلف ڈرائیونگ کاریں انسانی سیفٹی ڈرائیور پر بھروسہ کرتی ہیں لیکن مکمل خود کار گاڑیوں کو وائی فائی اور 5 جی کنیکٹیوٹی کی ضرورت ہوگی تاکہ وہ مختلف حد رفتار، ٹریفک صورتحال اور سڑکوں پر کام کے حوالے سے رابطہ کر سکیں۔ یہ اپگریڈ عام ڈرائیورز کے لیے بھی مددگار ہوگا کیونکہ اس سے شاہراہوں کی بہتر انداز میں مرمت ہوگی کیونکہ سینسرز کنکریٹ کی خرابی پر نگاہ رکھیں گے اور گڑھے پڑھنے کی نشاندہی کرکے اس ڈیٹا کو سڑکوں کی دیکھ بھال کے مقامی ادارے کے لیے اپلوڈ کریں گی تاکہ بروقت مرمت کی جا سکے۔

ادارہ اگلے مہینے 15 ملین پاؤنڈز کا ایک پائلٹ پروجیکٹ کینٹ کاؤنٹی میں شروع کرے گا جہاں یہ ٹریفک ہدایات، سفر کے لیے حالات اور اشاروں کو براہ راست پائلٹ گاڑیوں کے ڈیش بورڈز میں داخل کرے گا۔ تجربات مختلف مقامات جیسا کہ سرنگوں میں انٹرنیٹ رابطوں کی موثریت کی جانچ کرے گا۔