اب آئے گی خود بخود جڑنے والی موبائل اسکرین

1,842

فون ہماری زندگیوں کا اٹوٹ حصہ ہیں اور خدا نہ کرے کہ آپ کو کبھی اسکرین ٹوٹنے کا غم سہنا پڑے۔ ہاتھ سے پھسل کر، میز کے کنارے سے نیچے گر کر اور اگر خون زیادہ ہی گرم ہے تو غصے میں دیوار پر مار کر ہم جو نقصان کرتے ہیں، اس کا نتیجہ فون کی "شہادت” سے لے کر "ہسپتال” کے چکر تک کسی بھی صورت میں نکل سکتا ہے یعنی جیب کے لیے ایک بھاری نقصان۔ مرمت کے اخراجات اپنی جگہ لیکن جس اذیت و کوفت سے اس دوران صارف گزرتا ہے، اس کی کوئی قیمت ہی نہیں۔

اب ایسا لگ رہا ہے کہ یہ ساری کہانیاں ماضی کا قصہ بن جائیں گی کیونکہ جاپان میں سائنس دانوں نے حادثاتی طور پر ایسی اسکرین دریافت کرلی ہے جو خود بخود ٹھیک ہو جائے گی۔ تحقیق کے دوران ایسا پولیمر ایجاد کیا گیا جو ٹوٹنے کے بعد ازخود ٹھیک ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اسے ضرورت ہوگی صرف 21 درجہ سینٹی گریڈ کے عام درجہ حرارت کی اور 30 سیکنڈ کے معمولی دباؤ کی تاکہ اسے پھر سے جڑنے میں مدد ملےگا۔

سائنس میگ میں شائع ہونے والے ایک مقالے کے مطابق قیادت یونیورسٹی آف ٹوکیو کے پروفیسر تاکوزو آئیڈا نے کی لیکن درحقیقت دریافت یو یاناگیساوا نامی گریجویٹ طالب علم کی ہے۔ جو گلو کے طور پر استعمال کے لیے polyether-thioureas بنانے پر کام کررہا تھا لیکن جب سطح کو کاٹا تو دریافت کیا کہ کنارے ایک دوسرے سے جڑ رہے تھے۔ اپنی دریافت کے ممکنہ فوائد کو فوراً سمجھتے ہوئے اس تجربے کو دہرایا تاکہ یقینی بنایا جائے کہ یہ ویسے ہی نتائج دے رہا ہے۔ یاناگیساوا کا کہنا ہے کہ مجھے امید ہے یہ شیشہ ایک نیا ماحول دوست مادّہ ہوگا جو ٹوٹنے کی صورت میں پھینکا نہیں جائے گا۔

خود بخود ٹھیک ہو جانے والے شیشے پر دیگر ادارے بھی کام کر رہے ہیں اور یہیں سے امید پیدا ہوتی ہے کہ مستقبل کے اسمارٹ فونز اسکرین کی ٹوٹھ پھوٹ کے خطرے سے پاک ہوں گے۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept