اب گوگل بھی ایڈ-بلاک کرے گا

1,357

سننے میں حیران کن ضرور لگتا ہے کیونکہ گوگل جیسے ادارے کا اپنا سب سے زیادہ انحصار اشتہارات پر ہے تو وہ کیسے کسی ویب براؤزر کے لیے ایڈ-بلاکر جاری کر سکتا ہے؟ لیکن حقیقت یہی ہے کہ گوگل نے اپنے مشہور زمانہ کروم براؤزر میں built-in یہ "سہولت” پیش کردی ہے۔ جو صارفین کو پریشان کرنے والے اور زبردستی دکھائے جانے والے اشتہارات کو بند کردے گی۔

گوگل نے پچھلے سال اعلان کیا تھا کہ وہ full-page اور خود بخود چلنے والے وڈیو ایڈ سمیت ان تمام اشتہارات کو روکنے کی کوشش کرے گا جو صارفین کے لیے پریشان کن ہوتے ہیں۔

کن اشتہارات کو روکنا ہے؟ اس کا فیصلہ Coalition for Better Ads (سی بی اے) کرے گا جو گوگل اور فیس بک سمیت کئی اداروں کا مشترکہ اتحاد ہے۔

ویب سائٹس کے پاس صرف 30 دن ہوں گے کہ وہ ایسے اشتہارات ہٹائیں، جس کے بعد انہیں بلاک کرنے کا سلسلہ شروع ہو جائے گا۔

امریکا اور یورپ کے 40 ہزار صارفین سے کیے گئے سروے میں پایا گیا ہے کہ بدترین اشتہارات وہ فل پیج ایڈز سمجھے جاتے ہیں جن کے پیچھے پورا ویب پیج چھپ جاتا ہے۔ اس کے علاوہ اینی میٹڈ اشہارات بھی صارفین میں غیر مقبول ہیں۔ لیکن اب Better Ads کے معیارات پر پورا نہ اترنے والی ویب سائٹس کے اشتہارات بند کردیے جائیں گے۔

ابتداء میں جب ایسی خبریں آئی تھیں تو ویب پبلشرز سخت پریشان ہو گئے تھے کیونکہ ان کا تو بنیادی ذریعہ ہی اشتہارات کے ذریعے آمدنی ہے۔ لیکن اب زیادہ واضح تصویر سامنے آ چکی ہے تو ان کا سانس بھی بحال ہو گیا ہوگا۔ لیکن کیا واقعی صورت حال اطمینان بخش ہے؟ ناقدین اس سے ہرگز مطمئن نہیں کیونکہ انہیں صاف نظر آ رہا ہے کہ ایسے اقدامات سے اشتہارات کی دنیا میں بڑے ناموں کی اجارہ داری قائم ہو جائے گی، وہ جیسا چاہیں ویسا قانون بنائیں گے۔ خاص طور پر جب اس وقت براؤزرز کی دنیا میں کروم کی بادشاہت ہے، ایسا کوئی بھی قدم گوگل کو اشتہارات کی دنیا میں اور مضبوط کر سکتا ہے۔