اب بھارت میں موبائل فون ہوگا مزید مہنگا

859

بھارت میں نئے بجٹ کے بعد اب موبائل فونز کی درآمد پر ڈیوٹی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے یعنی کہ اب فونز مزید مہنگے ہو جائیں گے۔ بھارت میں موبائل فونز پر پہلے 15 فیصد امپورٹ ڈیوٹی لاگو تھی جسے نئے مالی سال کے لیے پیش کردہ بجٹ میں بڑھا کر 20 فیصد کردیا گیا ہے۔ اس کا اطلاق تمام اسمارٹ فونز اور ویئریبلز یہاں تک کہ ٹیلی وژنز پر بھی ہوگا۔

یہ پانچ فیصد اضافہ درآمد شدہ اسمارٹ فونز کی قیمت میں 3 سے 4 فیصد اضافے کا باعث بن سکتا ہے۔ اس سے زیادہ کیوں نہیں؟ کیونکہ بھارت بہت بڑی مارکیٹ ہے، اس میں کمپنیاں اپنا ایک، دو فیصد نقصان کرکے قیمت کو مناسب رکھنے کی کوشش کریں گی اور تمام بوجھ صارف پر منتقل کرکے اپنے گاہک خراب نہیں کرنا چاہیں گی۔

بھارتی حکومت کا کہنا ہے کہ یہ قدم اٹھانے کے دو مقاصد ہیں، ایک تو درآمد شدہ غیر ملکی اشیاء پر انحصار میں کمی لانا اور دوسرا غیر ملکی اداروں کو مجبور کرنا کہ وہ بجائے فون برآمد کرنے کے بھارت آ کر کارخانے لگائیں اور یوں اپنے لیے بھی آسانی پیدا کریں۔

کئی معروف ادارے جیسا کہ جیونی، سام سنگ، شیاؤمی، مائیکرومیکس، ایل جی اور لاوا انٹرنیشنل پہلے ہی ملک کے مختلف حصوں میں اپنے کارخانے کھول چکے ہیں اور اب مزید اداروں کے بھارت منتقل ہونے کا امکان بھی ہے۔ بھارت منتقلی میں اداروں کے لیے صارفین کی بہت بڑی تعداد کے ساتھ ساتھ موثر اور سستی افرادی قوت میسر آنا بھی پرکشش ہے لیکن یہ اتنا آسان بھی نہیں ہے۔ اس لیے سب سے آسان طریقہ یہی ہے کہ ادارہ بھارتی مارکیٹ کو فون برآمد کرے، لیکن اسے اب بھارتی حکومت مشکل سے مشکل تر بنا رہی ہے تاکہ فون بنانے والے مجبور ہوجائیں۔

گزشتہ سال ایپل نے حکومت بھارت سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ امپورٹ ڈیوٹی کے معاملے کو دیکھے۔ بھارت نے نہ صرف انکار کیا بلکہ حالیہ بجٹ میں مزید اضافہ کرکے ایپل کے لیے مسائل کھڑے کردیے ہیں۔ امریکا و چین سمیت دنیا کی تمام بڑی مارکیٹوں میں چھا جانے والا ایپل بھارت میں قدم جمانا چاہتا ہے لیکن عالم یہ ہے کہ آئی فون اتنا مہنگا امریکا میں نہیں جتنا بھارت میں ہے۔ 256 جی بی کے آئی فون ٹین کی قیمت ہی دیکھ لیں، امریکا میں 1149 ڈالرز کا ہے لیکن بھارت میں یہ 1646 ڈالرز کا ملتا ہے۔ ایک ایسی مارکیٹ میں جہاں اپنی پروڈکٹ کم قیمت میں بیچ کر مارکیٹ پر اثر و نفوذ حاصل کرنے کی خواہش ہو، وہ اتنی بھاری قیمت پر بیچنے کی مجبوری ایپل کی راہ میں آڑے آ رہی ہے۔

ان حرکتوں کی وجہ سے بھارت عالمی تجارتی تنظیم (ڈبلیو ٹی او) کی نظروں میں بھی آ چکا ہے۔ وزارت خزانہ کی جانب سے کسٹم ڈیوٹیز میں اضافے ڈبلیو ٹی او میں بھارت کی ساکھ کو نقصان پہنچائیں گے۔ دیکھتے ہیں اس رسہ کشی میں آخری فائدہ کس کو پہنچتا ہے؟