اب جھوٹ بولنے والا پکڑا جائے گا

1,141

Facial Recognition یعنی چہرہ پہچاننے والے سافٹویئر جھوٹ بولنے والے کو جان سکتے ہیں اور ہوائی اڈوں پر دہشت گردوں اور منشیات اسمگل کرنے والوں کو پکڑنے میں بھی مدد کر سکتے ہیں۔

کئی ملین فوٹیجز کا تجزیہ کرنے کے بعد سائنس دانوں نے ناقابل اعتبار افراد کے چہرے کے تاثرات کو پہچان لیا ہے، جنہیں نگرانی کرنے والے اسمارٹ کیمروں کے ذریعے مسافروں کا جائزہ لینے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔

مصنوعی ذہانت موقع پر موجود عہدیداروں کی مدد کرے گی کہ آیا امیگریشن کی قطار میں موجود مشتبہ شخص سچ بول رہا ہے یا صرف گھبرایا ہوا ہے؟ یہ ایئرپورٹ عملے کی جانب سے کسی خاص نسل کے فرد کو نشانہ بنانے کی حرکتوں کو بھی کم کرے گی۔

نیو یارک کی یونیورسٹی آف روچیسٹر کے کمپیوٹر سائنسدانوں نے اپنی تحقیق میں جھوٹوں کے چہرے کے تاثرات کا سب سے بڑا پبلک ڈیٹا ذخیرہ تخلیق کیا ہے۔ چند ہفتوں میں انہوں نے 151 افراد کے 1.3 ملین فریمز جمع کیے۔ اس کام کے لیے انہوں نے اسکائپ جیسا ایک سسٹم استعمال کیا جس میں ایک تفتیش کار ہوتا اور دوسرا جھوٹ یا سچ بولتا، جبکہ اس دوران ویب کیم کے ذریعے ان کی فلم بنتی رہتی۔ سائنس دانوں کے مطابق اس سسٹم نے ہمیں بتایا کہ بنیادی طور پر پانچ قسم کے مسکراتے چہرے ہوتے ہیں جو لوگ سوالوں کا جواب دیتے ہوئے بناتے ہیں۔ ان میں سے ایک کو انہوں نے Duchenne مسکراہٹ کا نام دیا ہے جس میں نہ صرف ہونٹ بلکہ گال، آنکھیں اور چہرے کے دیگر پٹھے بھی حرکت کرتے ہیں۔ یہ مسکراہٹ اس وقت دی جاتی ہے جب سچ نہ بولا جا رہا ہو۔ جھوٹے اپنی "آنکھوں سے بھی مسکراتے” ہیں، دوسرے الفاظ میں جب آپ کسی کو بے وقوف بنا رہے ہوں تو آپ اس میں خوشی محسوس کرتے ہیں۔

حیران کن طور پر سائنس دانوں نے پایا کہ دیانت دار افراد اکثر و بیشتر اپنی آنکھیں تو سکیڑتے ہیں لیکن ہونٹوں سے ارادتاً نہیں مسکراتے۔ بہرحال، اب پکے جھوٹے افراد ان تربیت یافتہ افسران کو دھوکا نہیں دے پائیں گے کیونکہ اب وہ جو جانتے ہیں کہ ایسے افراد کے چہرے کے تاثرات کیسے ہوتے ہیں۔ تحقیق کے مطابق Duchenne مسکراہٹ میں گال کا ایک ایسا پٹھا بھی شامل ہوتا ہے، جسے کنٹرول کرنا انسان کے بس کی بات نہیں۔

تحقیق میں شامل ایک سائنس دان احسان حق نے کہا کہ آخری بات یہ کہ حتمی فیصلہ اب بھی انسان ہی کے ہاتھ میں ہی ہوگا۔ لیکن تحقیق کے دوران انہیں مشین کے استعمال کے ذریعے اپنے فیصلے کی تصدیق کے لیے مدد ضرور ملے گی۔