اب مریخ پر بھیجا جائے گا ہیلی کاپٹر

1,737

مریخ پر امریکی خلائی تحقیقاتی ادارے ‘ناسا‘ کی جو اگلی چیز جائے گی وہ ایک ہیلی کاپٹر ہوگا، جو خودکار بھی ہوگا اور سرخ سیارے کے جائزے میں بہت کام آئے گا۔

1.8 کلوگرام کے اس ڈرون ہیلی کاپٹر کے دو پر 3 ہزار راؤنڈ فی منٹ کی رفتار سے گھومیں گے، جو عام ہیلی کاپٹر سے کم از کم 10 گنا زیادہ شرح ہے۔ انہی کی وجہ سے وہ مریخ کے آسمان پر پرواز بھر سکے گا کیونکہ اس سیارے کی فضائی کثافت بہت کم ہے۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ بغیر اڑے بھی اس ڈرون ہیلی کاپٹر کو جیسے فضائی حالات کا سامنا ہوگا وہ زمین پر ایک لاکھ فٹ کی بلندی پر پیش آتے ہیں۔ ناسا مریخ کی سرد راتوں کا مقابلہ کرنے میں مدد کے لیے اس ہیلی کاپٹر میں ہیٹنگ کا نظام بھی شامل کر رہا ہے۔

مارس 2020ء روور کے مریخ پہنچنے کے بعد یہ ہیلی کاپٹر کو ایک جگہ پر رکھے گا اور محفوظ فاصلے تک دور ہٹ جائے گا۔ اپنے سولر سیلز کی مدد سے بیٹریاں چارج ہو جانے کے بعد یہ ہیلی کاپٹر کچھ تجربات کرے گا اور روور اسے زمین سے آنے والے کنٹرولرز کی ہدایات دے گا۔ ناسا امید کرتا ہے کہ ہیلی کاپٹر 10 فٹ کی بلندی تک جائے گی اور اپنی پہلی پرواز میں 30 سیکنڈ تک اڑے گا۔ ادارہ ہر 30 دن کے عرصے میں اس ڈرون کا تجربہ کرے گا اور چار اضافی پروازیں بھی کرے گا، یعنی ہیلی کاپٹر کے 90 سیکنڈ تک فضاء میں رہنے اور چند سو میٹر دوری تک جانے کی توقع ہے۔

یہ تجربہ کامیاب ہوا تو مستقبل کے مشنز کے لیے ایک نئی راہ کھلے گی کیونکہ مریخ کی سطح کا جائزہ لینا روورز کے لیے بہت مشکل ہے۔ مریخ میں کئی مقامات پر سطح پر رہتے ہوئے رسائی ہی حاصل نہیں کی جا سکتی۔

ناسا کی جیٹ پروپلژن لیبارٹری (جے پی ایل) 2013ء سے اس ہیلی کاپٹر کو تیار کر رہی ہے۔ ہیلی کاپٹر اور روور جولائی 2020ء میں لانچ کیے جائیں گے اور یہ سات ماہ بعد مریخ پر پہنچیں گے۔