ایک ارب بھارتی شہریوں کا بایومیٹرک ڈیٹا چوری

1,282

دنیا کا سب سے بڑا بایومیٹرک ڈیٹابیس ایک ارب سے زیادہ بھارتی شہریوں کی ذاتی معلومات پر مشتمل ہے اور یہ 500 روپے میں آن لائن خریدا جا سکتا ہے۔

ایک بھارتی اخبار کی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق حال ہی میں آدھار ڈیٹابیس لیک ہوا ہے جس میں ہر بھارتی شہری کی تصویر، انگلیوں کے نشانات، آنکھوں کی پتلیوں کے اسکین اور دیگر شناختی تفصیلات موجود ہیں۔

چندی گڑھ سے شائع ہونے والے ٹریبیون اخبار کا دعویٰ ہے کہ سافٹ ویئر آن لائن بھی دستیاب ہے جو نقلی آدھار کارڈز بنا سکتا ہے، یہ شناختی دستاویز مفت کھانے اور کم قیمت راشن سمیت حکومت کی دیگر خدمات تک رسائی کے لیے استعمال کیا جاتی ہے۔

یونیک آئیڈینٹی فکیشن اتھارٹی آف انڈیا (UIDAI)، جو آدھار سسٹم کا انتظام سنبھالتی ہے، کا کہنا ہے کہ لگتا ہے اخبار نے تلاش کی سہولت کے ذریعے محدود تفصیلات تک رسائی حاصل کی ہے جو حکومتی عہدیداروں کے لیے ویسے ہی دستیاب ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ وہ ان افراد کے خلاف تحقیقات کا مطالبہ کرے گا جنہوں نے اس سسٹم کا غلط استعمال کیا، لیکن ساتھ ہی زور دیا کہ انگلیوں کے نشانات اور پتلیوں کے اسکین دستیاب نہیں ہیں۔ اپنے بیان میں آدارے کا کہنا ہے کہ بغیر بایومیٹرک کے محض معلومات کا غلط استعمال نہیں ہو سکتا۔ آدھا ڈیٹا مکمل طور پر محفوظ ہے۔

لیکن اخبار کا کہنا ہے کہ واٹس ایپس گروپوں میں نامعلوم افراد 500 روپے میں ایک اکاؤنٹ کی تفصیلات فروخت کر رہے تھے جو آدھار ڈیٹابیس تک رسائی فراہم کرتا ہے۔ اس میں فرد کا نام، گھر اور ای میل ایڈریس، تصاویر اور فون نمبرز موجود ہیں۔ اخبار کا دعویٰ ہے کہ اس نے ایک کوڈ خریدا اور اس معلومات تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب ہوا، ساتھ ہی سافٹ ویئر صارفین کو نقلی آدھار کارڈز پرنٹ کرنے کی اجازت بھی دیتا ہے۔

گو کہ اس دعوے کی غیر جانبدار ذرائع سے تصدیق نہیں ہوئی لیکن نومبر میں 200 ایسی سرکاری ویب سائٹس کا انکشاف ہوا تھا جنہوں نے شہریوں کے آدھار نمبر مع نام، پتے اور بینک تفصیلات کے شائع کیے تھے۔ UIDAI کا کہنا ہے کہ یہ دیگر سرکاری اداروں کی جانب سے معلومات کو غلطی سے پیش کرنے کا تھا اور اسے فوراً بند کردیا گیا تھا۔

اس منصوبے کے تحت گزشتہ چار سالوں میں بھارت بھر میں ایک ارب سے زیادہ شہریوں کی تصاویر حاصل کی گئی ہیں اور ان کے انگلیوں اور آنکھوں کے اسکین کیے گئے۔ حکومت کہتی ہے کہ ڈیٹابیس شہریوں کی بڑی تعداد کو ڈجیٹل معیشت میں لائے گا اور سماجی منصوبوں میں عوام کو براہ راست فائدہ پہنچائے گا لیکن ناقدین کا کہنا ہے کہ آدھار منصوبے کے فوائد کو بڑھا چڑھا کر بیان کیا جا رہا ہے اور اتنا بڑا اور جامع ڈیٹا بیس کبھی بھی مکمل طور پر محفوظ نہیں ہو سکتا۔