ایئربس کی "فلائنگ ٹیکسی” کی پہلی کامیاب پرواز

942

ہوا بازی کی دنیا کے بڑے نام ایئربس نے اپنے الیکٹریکل ورٹیکل ٹیک آف اینڈ لینڈنگ (eVTOL) ہوائی جہاز "وہانا” کی کامیاب تجرباتی پرواز کا اعلان کردیا ہے۔ یہ پرواز 31 جنوری کی صبح کی گئی تھی جس کے دوران یہ اُڑن گاڑی 16 فٹ کی بلندی تک گئی اور محفوظ انداز میں اُتر گئی۔ گو کہ یہ خودکار "اُڑن کھٹولا” صرف 53 سیکنڈ فضا میں رہا لیکن "فلائنگ ٹیکسی” منصوبے کے لیے یہ بھی ایک سنگ میل ہے۔

ایئربس کا کہنا ہے کہ وہ ایسے خودکار ہوائی جہاز بنانا چاہتا ہے جو گنجان شہروں میں ایک گھر کی چھت سے پرواز کرکے منزل پر بھی چھت پر اُتر جائیں اور یوں عوام کو ٹریفک جام کے عذاب سے نجات دلائیں۔ یہ منصوبہ 2016ء کے اوائل میں شروع کیا گیا تھا اور اے3 (اے کیوبڈ) کے ابتدائی منصوبوں میں سے ایک تھا جو ایئربس کا سلیکون ویلی میں قائم ماتحت ادارہ ہے۔

مکمل تجرباتی "اڑن کھٹولے” کو الفا ون کا نام دیا گیا ہے جسے اصل میں 2017ء کے اواخر میں پرواز کرنا تھی۔ حال ہی میں اڑن ٹیکسی کو کیلیفورنیا سے پینڈلیٹن، اوریگن منتقل کیا گیا تھا جہاں گزشتہ ہفتے اس کا تجربہ کیا گیا۔ اے کیوبڈ کا کہنا ہے کہ وہ 2020ء تک پروڈکشن کے لیے تیار ہونے کا ارادہ رکھتا ہے۔ ادارے کے مطابق الفا ون 20.3 فٹ چوڑا، 18.7 فٹ لمبا، 9.2 فٹ بلند اور 1642 پونڈز وزنی ہے۔

وہانا کے پروجیکٹ ایگزیکٹو زیک لورنگ نے ایک بلاگ میں کہا ہے کہ ہمارا مقصد ایک مسافر کے لیے ایسا بجلی سے چلنے والا اور خودکار طور پر اڑنے والا ہوائی جہاز تیار کرنا ہے جو شہروں میں نقل و حرکت کی بڑھتی ہوئی ضرورت کو پورا کرے۔ ہمارا ہدف الیکٹرک پروپلژن، انرجی اسٹوریج اور مشین وژن کے ساتھ جدید ترین ٹیکنالوجی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ذاتی پرواز کو حقیقت کا رُوپ دینا ہے۔ ہماری پہلی پرواز اس سمت میں ایک اہم سنگ میل ہے۔