ایسے اسمارٹ فونز کے ساتھ لیپ ٹاپ کی ضرورت کسے ہوگی؟

3,486

آج کے اسمارٹ فونز سپر کمپیوٹرز ہیں، کم از کم 10 سال پہلے کے سپر کمپیوٹرز جتنے طاقتور تو ضرور ہیں۔ بلکہ پانچ سال پہلے جو ڈیسک ٹاپس ہم استعمال کرتے تھے، ان سے تو کہیں زیادہ طاقتور ہیں۔ پھر اسمارٹ فونز میں ایسی شاندار خصوصیات ہیں جو لیپ ٹاپس میں نہیں جیسا کہ لمبی بیٹری لائف اور بایومیٹرک سکیورٹی نظام۔ تو آخر ہم لیپ ٹاپ استعمال کیوں کرتے ہیں؟

مائیکروسافٹ نے کویلکوم کے ساتھ مل کر اس ہفتے نئی قسم کے لیپ ٹاپس جاری کیے ہیں۔ مختصراً یہ کہ یہ اسمارٹ فونز پروسیسر سے چلیں گے لیکن چلائیں گے ڈیسک ٹاپ آپریٹنگ سسٹم۔ سب سے پہلے ایچ پی، لینووو اور اسوس نے اس میدان میں قدم رکھا ہے جن کے نئے لیپ ٹاپس کویلکوم اسنیپ ڈریگن 835 پروسیسر سے چلیں گے۔ یہ وہی چپ ہے جو گلیکسی ایس8 اور نوٹ8 جیسے جاندار فونز میں نصب ہے۔ مائیکروسافٹ نے ان چپ سیٹس پر اپنا آپریٹنگ سسٹم چلانے کے لیے ونڈوز 10 میں کچھ تبدیلیاں کی ہیں۔

گو یہ ونڈوز کے دیگر لیپ ٹاپس سے زیادہ طاقتور نہیں ہیں لیکن ان کی چند خوبیاں ایسی ہیں جو کسی لیپ ٹاپ میں نہیں، ایک ایل ٹی ای کنکشن کے ذریعے ہمہ وقت دنیا سے رابطہ اور دوسرا ان کی بیٹری لائف، جو دن بھر چلتی ہے۔

یہ بہت ہی زبردست پیشرفت ہے لیکن ایک اسمارٹ فون کو ڈیسک ٹاپ کی حیثیت سے استعمال کرنے کا مطلب کیا؟ ویسے یہ نیا آئیڈیا تو نہیں ہے بلکہ گزشتہ چند سالوں میں ایسی کئی مصنوعات سامنے آئیں لیکن کوئی بھی قبولیت عام حاصل نہیں کر سکی۔ اب آیا ہے مائیکروسافٹ کا "Always Connected PCs” کا خیال، جس میں ڈیسک ٹاپ آپریٹنگ سسٹم چل رہا ہے اے آر ایم موبائل چپ سیٹ پر۔

اس تصور نے جہاں نئے امکانات پیدا کیے ہیں وہیں نئے سوالات بھی ابھرے ہیں۔ کیا ونڈوز 10 پرو آپریٹنگ سسٹم کسی بھی اچھے اینڈرائیڈ فون پر چل سکتا ہے؟ کیا میک او ایس ہائی سیئرا آئی فون ایکس پر چلے گا؟ کیا ایک اینڈرائیڈ فون ڈیسک ٹاپ موڈ میں کروم بک بن سکتا ہے؟ اور اس میں اینڈرائیڈ ایپس چلا سکتا ہے؟

ایسا بالکل ممکن ہوگا لیکن اس میں ایک مسئلہ ہے، مائیکروسافٹ نہیں چاہے گا کہ کسی اینڈرائیڈ فون پر ونڈوز چلے، نہ ہی ایپل ایسا چاہتا ہے کہ آپ میک بک پرو یا آئی میک کی جگہ محض آئی فون یا آئی پیڈ سے کام چلا لیں۔ گوگل کی بھی خواہش نہ ہوگی کہ آپ کروم بک کی جگہ صرف اینڈرائیڈ فون سےکام چلا لیں۔ یہ سب چاہتے ہیں کہ آپ دونوں چیزیں خریدیں۔

دراصل مائیکروسافٹ نوکیا والے تجربے کے بعد تو توبہ کرچکا ہے کہ وہ اسمارٹ فونز بزنس میں قدم نہیں رکھے گا اور حالیہ اقدامات ظاہر کرتے ہیں ہے کہ وہ اب اسمارٹ فون کو ہی نیا روپ دینے کی کوشش میں ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ ونڈوز 10 کا ایک پین بیسڈ فولڈیبل ٹیبلٹ آ رہا ہے جو اے آر ایم چپ سیٹ پر چلے گا۔ یہ ڈیسک ٹاپ کی جگہ لے سکتا ہے۔ اس پروڈکٹ سے مائیکروسافٹ اسمارٹ فون دنیا پر چھا سکتا ہے، وہ بھی بغیر کسی اسمارٹ فون کے۔ ہے نا کمال؟

اب اگر یہ ڈیوائس فولڈنگ ہو یا نہ ہو، واضح بات یہ ہے کہ اسمارٹ فون پر ڈیسک ٹاپ چلانا اب بہت جلد عام ہو جائے گا۔

آخر اسمارٹ فونز زیادہ طاقتور ہیں، بایو میٹرک سکیورٹی کی وجہ سے زیادہ محفوظ ہیں اور اب مہنگے اسمارٹ فونز کی مانگ بھی بڑھتی جا رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ الگ سے لیپ ٹاپ لینے کی طلب کم ہوتی جا رہی ہے۔ ہماری جیب میں پہلے ہی سپر کمپیوٹر موجود ہے تو کیا ہم صرف بڑی اسکرین، فل سائز کی بورڈ اور ماؤس یا ٹریک پیڈ کی وجہ سے لیپ ٹاپ خریدیں؟ آخر کچھ ایسا کیوں نہ کیا جائے کہ ان چیزوں کو اسمارٹ فونز سے جوڑنے کی سبیل پیدا کی جائے اور ایسا آپریٹنگ سسٹم ہو جو ضرورت کے مطابق فون اور ڈیسک ٹاپ میں تبدیل ہو جائے۔

بلاشبہ گرافک ڈیزائنرز، ڈیولپرز، فوٹوشاپ صارفین اور دیگر پاور یوزرز کے لیے اسمارٹ فون جتنی طاقت کافی نہیں لیکن صارفین کی بہت بڑی اکثریت کے لیے اسمارٹ فون ہی کافی ہے۔ اب وقت آ چکا ہے ایسے اسمارٹ فونز کا جو آپ کے لیپ ٹاپ کا متبادل ہوں۔ آپ کا کیا خیال ہے؟