الگورتھمز لکھنے کے لیے سنسکرت کا استعمال کریں، بھارتی صدر

1,448

بھارت کے صدر رام ناتھ کووند نے کہا ہے کہ سنسکرت الگورتھمز لکھنے اور مصنوعی ذہانت کے لیے موزوں ترین زبان ہے۔ وہ سنسکرت کی افادیت کے بارے میں ایک تقریب کے دوران تعلیمی ماہرین سے خطاب کر رہے تھے، جس میں انہوں نے قدیم زمانے میں ہندوستانی ریاضی دانوں اور سائنس دانوں کی جانب سے اس زبان کے استعمال کی تاریخ کے بارے میں بات کی۔

صدر کا کہنا تھا کہ کئی دانشوروں کا ماننا ہے کہ سنسکرت کی گرامر، قواعد، ساخت اور منطق کے اعتبار سے الگورتھمز کے لیے موزوں ترین زبان ہے یعنی اسے مشین لرننگ بلکہ مصنوعی ذہانت میں بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔

توقع تو یہی ہے کہ بھارتی صدر کے یہ الفاظ کوئی نیا تنازع نہیں کھڑا کریں گے کہ آخر مشین لرننگ کے لیے بہترین زبان کون سی ہے، بلکہ یہ ان کی یہ گفتگو محض دوسروں کو متاثر کرنے اور اپنے کنویں میں اچھی زندگی گزارنے کے لیے ہوگی۔ یہ حیرانگی کی بات نہیں کہ بھارت میں واقعی ایسے دانشور پائے جاتے ہیں جو سمجھتے ہیں کہ سنسکرت الگورتھمز لکھنے کے لیے انگریزی، چینی، روسی اور دیگر زبانوں سے زیادہ بہتر ہے۔

ویسے بھارتی صدر نے تو ہمارے پاکستانی صدر کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔