پچھلے سال کی آدھی کرپٹو کرنسی ختم ہو چکیں

2017ء میں بٹ کوائن کی قیمت کو پر لگے اور کئی نئے ادارے کرپٹو کرنسی کی دوڑ میں شریک ہوگئے، اس امید پر کہ ہم بھی راتوں رات امیر بن جائیں گے۔ان میں سے کئی کوائنز آغاز ہی سے چالبازی لگتے تھے اور بعد میں ثابت بھی ہوا۔

بٹ کوائن ڈاٹ کام نے ٹوکن ڈیٹا کی جانب سے ٹریک کیے گئے آئی سی اوز (Initial Coin Offerings) پر تحقیق کی ہے اور پایا ہے کہ کراؤڈسیل پر انحصار کرنے والی 902 ورچوئل کرنسیوں میں سے 46 فیصد پہلے ہی ناکام ہو چکی ہیں۔ ان میں سے 142 کو اتنی فنڈنگ ہی نہیں ملی؛ مزید 276 آہستہ آہستہ منظر عام سے غائب ہوتی گئیں۔عملاً شکار بننے والوں کی تعداد کہیں زیادہ ہوگی۔ 113 مزید آئی سی اوز نے سوشل نیٹ ورکس پر بات کرنا چھوڑ دیا یا چند نے پا لیا کہ کامیابی بہت مشکل ہے۔ جو اس پورے معاملے میں بچے اُن کا حال اللہ ہی جانے۔ صرف "چند” افراد نے 10 ملین ڈالرز سے زیادہ کمائے ہوں گے، جنہوں نے باقیوں کے لیے ایک عذاب کھڑا کیا۔

یہ سمجھنا بہت زیادہ مشکل نہیں ہے کہ ایسی ورچوئل کرنسیاں آخر ناکام کیوں ہوئیں؟ جعلی کرنسیوں کے علاوہ باقی بڑی تعداد کا ہدف مخصوص شعبے تھا جیسا کہ رئیل اسٹیٹ وغیرہ، نتیجہ یہ نکلا کہ وہ وسیع تر افراد تک پہنچی ہی نہیں۔

اب 2018ء میں بھی آئی سی اوز مقبول ہیں، لیکن لگتا نہیں کہ اس نئی لہر سے کچھ زیادہ فائدہ ہوگا۔ ہم پہلے ہی کوڈیک اور اس جیسے اداروں کو کرپٹو کرنسی کے میدان میں کودتے ہوئے دیکھ چکے ہیں، وہ بھی محض مالی فائدے سے کچھ آگے کا سوچ کر اترے ہیں۔ پھر اس پر کرپٹو کرنسی مارکیٹ میں گرتی ہوئی قیمتیں ہیں جس نے کئی آئی سی اوز کو سخت متاثر کیاہے۔

کرپٹو کرنسیورچوئل کرنسی