ایپل جان بوجھ کر پرانے آئی فونز کو سست کرتا ہے

ایپل پر بارہا یہ الزام لگتا ہے کہ وہ جان بوجھ کر اپنے پرانے آئی فونز کو سست کرتا ہے لیکن ایسا کہنے والے کو "سازشی نظریات” کا حامل کہہ کر رد کیا گیا ہے، جو بیچارے کہتے رہتے ہیں کہ ایپل اپنی نئی مصنوعات فروخت کرنے کے لیے ایسا کرتا ہے۔ لیکن اب ایسا لگتا ہے کہ "سازشی نظریات” والے ٹھیک ہی کہتے تھے۔ دراصل بیٹری پرانی ہونے پر ایپل واقعی اپنے آئی فونز کی کارکردگي کو محدود کر دیتا ہے۔

یہ بات اسمارٹ فونز اور کمپیوٹر کی کارکردگی کی نگرانی کرنے والے ادارے گیک بینچ نے بتائی ہے جس کا کہنا ہے کہ آئی او ایس کے مختلف ورژنز پر پرانی بیٹریوں والے فون کہیں سست کارکردگی دکھا رہے ہیں۔ دراصل وقت کے ساتھ ساتھ بیٹری کی صلاحیت میں کمی آتی ہے، لیکن اس کے نتیجے میں پروسیسر کی کارکردگی میں فرق آنا عجیب ہے۔ ہو سکتا ہے اس کا مقصد بیٹری لائف کو بڑھانا ہو لیکن اس صورت میں فون کا عام استعمال مشکل سے مشکل تر ہوتا جاتا ہے ۔

رواں سال کے اوائل میں ایپل نے سافٹویئر اپڈیٹ دیا تو آئی فون6 اور 6ایس کے صارفین نے فون کے اچانک بند ہو جانے کی شکایت کی، خاص طور پر جبکہ اُن کے فون میں تقریباً نصف بیٹری موجود تھی۔

گیک بینچ کے ڈيولپر جان پول کے مطابق یہ مسئلہ بڑے پیمانے پر دیکھا گیا اور فونز اور ان کی بیٹریوں کے پرانے ہونے کے ساتھ ساتھ مزید گمبھیر ہوتا جائے گا۔ میرے خیال میں ایپل نے بیٹری کی حالت خراب ہونے پر کارکردگی کو محدود کرنے کا مقصد صارفین کو نیا فون خریدنے پر آمادہ کرنا نہیں بلکہ شاید رواں سال فون اچانک بند ہونے کے مسئلے سے نمٹنا تھا۔ دراصل پروسیسر کو دھیما کیا جائے تو اسمارٹ فون بند نہیں ہوتا، چاہے بیٹری 40 فیصد بھی کیوں نہ بچی ہے ۔ شاید اسی فکس نے صارفین کو یہ سوچنے پر مجبور کیا کہ ان کا فون سست پڑ گیا ہے اس لیے انہیں تبدیل کرنا چاہیے ۔

ویسے اکتوبر میں ماہرین نے پایا تھا کہ آئی او ایس 11 آئی فون کی بیٹریوں کو گزشتہ آپریٹنگ سسٹم کے مقابلے میں دوگنی رفتار سے خرچ کررہا تھا۔

آئی فونایپل