بھیانک انکشاف، فون گفتگو نہیں سنتا، اسکرین ریکارڈ کرتا ہے

کیا آپ بھی یہ سمجھتے ہیں کہ آپ کا فون خفیہ طور پر آپ کی گفتگو سنتا ہے اور پھر آپ کو ویسے ہی اشتہارات دکھاتا ہے؟ نارتھ ایسٹرن یونیورسٹی کے محققین نے سال بھر تحقیق کی کہ یہ سازشی نظریہ کہیں حقیقت تو نہیں ہے؟ ایلن پین، جنگ جنگ رین، مارٹینا لنڈورفر، کرسٹو ولسن اور ڈیوڈ شوفنیس پر مشتمل ٹیم نے 17 ہزار سے زیادہ مقبول اینڈرائیڈ ایپس کا جائزہ لیا تاکہ جان سکیں کہ وہ ہمارے فون کے مائیکروفون کو خفیہ طور پر استعمال کرکے آواز تو ریکارڈ نہیں کرتیں؟

تحقیق کا جو نتیجہ نکلا اس کا ایک پہلو اچھا ہے اور دوسرا برا۔ اچھی بات یہ کہ محققین کو کوئی ثبوت نہیں ملا کہ ایپس چھپ چھپ کر ہماری گفتگو ریکارڈ کرتی ہیں اور بری خبر یہ ہے، جو کہیں زیادہ خطرناک بھی ہے، کہ وہ ہماری اسکرین ریکارڈ کرتی ہیں۔

تحقیق میں پایاگیا کہ متعدد ایپس اسکرین ریکارڈنگ کرتی ہیں حالانکہ وہ اس مقصد کے لیے ہوتی بھی نہیں ہیں اور یہ پورا کام صارف کے علم میں لائے بغیر کرتی ہیں۔

یاد رہے کہ اپریل میں کانگریس کے روبرو سماعت کے دوران فیس بک کے مالک مارک زکربرگ نے کہا تھا کہ ان کی ایپ مائیکروفون کے ذریعے صارف کی گفتگو نہیں سنتی اور یہ ایک سازشی نظریہ ہے۔ چلیں ان کی بات کا یقین کرکے فیس بک کو اس فہرست سے نکال بھی دیا جائے تو یہ تحقیق بتاتی ہے کہ ایسی ایپس مارکیٹ میں موجود ہیں۔ اس لیے ذرا بچ کے!

اسمارٹ فونایپسپرائیویسی