بل گیٹس اپنے بچوں کے ٹیکنالوجی استعمال پر پابندیاں لگاتے ہیں

دنیا کو بدل دینے والی ٹیکنالوجی ڈیزائن کرکے بل گیٹس نے جو کامیابیاں حاصل کیں، اس کے بعد یہ پڑھ اور سن کر حیرت ہی ہوگی کہ وہ ٹیکنالوجی کے استعمال کے معاملے میں اپنے بچوں پر بہت سختی کرتے ہیں۔

ارب پتی بل گیٹس بارہا اس بارے میں بتا چکے ہیں اور ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ آپ کو ہمیشہ دیکھنا پڑتا ہے کہ ٹیکنالوجی کس طرح بہتر انداز میں استعمال ہو سکتی ہے، بچوں کے ہوم ورک میں اور دوستوں کے ساتھ رابطے میں، اور اس پر بھی نظر رکھنا پڑتی ہے کہ کہیں یہ زیادہ تو استعمال نہیں کی جا رہی۔

گیٹس کے تینوں بچے، جن کی عمریں 15، 18 اور 21 سال ہیں، ایسے گھر میں پلے بڑھے ہیں جہاں 14 سال کی عمر تک فون کے استعمال پر پابندی رہی ہے، اب بھی کھانے کی میزبان پر موبائل نہیں لا سکتے اور آج بھی وقت کی پابندیاں ہیں کہ سونے سے پہلے کتنے دیر تک فون استعمال کیا جا سکتا ہے۔ گیٹس بتاتے ہیں کہ ان کے بچوں کو ہمیشہ شکایت رہتی تھی کہ دوسرے بچوں کو کہیں کم عمر میں فون مل جاتے ہیں لیکن انہوں نے کبھی ان کی باتوں پر کان نہیں دھرے۔

ایک علیحدہ انٹرویو میں بل گیٹس نے کہا تھا کہ بچوں سے ان کے فیس بک اکاؤنٹس وغیرہ پاس ورڈز لینے کی حد تک تو نہیں گئے لیکن بچے کی آن لائن سیفٹی آجکل ایک بڑا اہم مسئلہ تو ہے۔

اسمارٹ فون کا زیادہ استعمال، بلکہ ماہرین نفسیات کے الفاظ میں "لت"، آج کل کے والدین کا ایک بڑا مسئلہ ہے، یہاں تک کہ ان کا بھی جو ٹیکنالوجی کے گڑھ سلیکون ویلی میں کام کرتے ہیں۔

یہ رویہ محض بل گیٹس کا ہی نہیں ہے، ایپل کے بانی اسٹیو جابس بھی ایسے ہی تھے۔ انہوں نے 2011ء میں آئی پیڈ بنایا تھا لیکن اپنے بچوں کو گھر پر یہ مصنوعات استعمال نہیں کرنے دیں۔

اندازہ لگا لیں کہ یہ اہم شخصیات اپنی بنائی گئی مصنوعات اور اس کے اثرات میں کہیں زیادہ اور بہتر جانتی ہیں، اس لیے اپنے بچوں کے لیے ان مصنوعات کا انتخاب نہیں کرتیں کیونکہ ان کا استعمال معاشرے کے ساتھ ہمارے تعلق اور رویے کو تبدیل کرتا ہے۔ یہ ہماری پیداواری اور تخلیقی صلاحیتوں کے لیے بھی نقصان دہ ہے اور یہ بڑے لوگ ہرگز نہیں چاہتے کہ ان کے بچے اس خطرے کا سامنا کریں۔

Toddler touching father’s cell phone
اسٹیو جابزبل گیٹس