بٹ کوائن 8 ہزار ڈالرز سے بھی نیچے آ گیا

صرف چند دنوں میں ہی کرپٹو کرنسی مارکیٹ نے اربوں ڈالرز گنوائے ہیں جبکہ مقبول ترین کرنسی بٹ کوائن کی کسی ایک مہینے میں بدترین کارکردگی بھی جاری ہے، جو گرتے گرتے ایک مرتبہ پھر 8 ہزار ڈالرز سے نیچے چلی گئی ہے۔ صرف ایک دن میں بٹ کوائن کی قیمت میں 13 فیصد کمی آئی ہے اور گزشتہ چند روز سے تمام کرنسیوں کا یہی حال ہے۔

دنیا کی سرفہرست 10 میں سے 9 کرنسیاں ایک دن میں 13 سے 21 فیصد تک نیچے آئی ہیں۔ بالخصوص دوسری سب سے بڑی کرپٹو کرنسی ایتھریئم کا حال تو دیکھنے کے قابل ہے جو 600 ڈالرز سے بھی نیچے گر گیا ہے۔ یعنی 2018ء میں وہ سب سے بری کارکردگی دکھانے والی کرسی بن گیا ہے۔ اس سے پہلے ایتھریئم کا کم ترین نرخ 689 ڈالرز رہا ہے جو اس نے فروری کے "بلڈ باتھ” میں حاصل کیا تھا۔ تب بٹ کوائن کی قیمت گزشتہ نومبر کے مقابلے میں پہلی بار 6 ہزار ڈالرز سے بھی نیچے چلی گئی تھی۔

اِس وقت پوری کرپٹو مارکیٹ کی مالیت 318 ارب ڈالرز ہے، جو اوائل ہفتہ میں 335 ارب ڈالرز جبکہ پچھلے ہفتے 400 ارب ڈالرز تھی۔

یہ خطرے کی گھنٹی ہے بالخصوص اُن کے لیے جنہوں نے کرپٹو ٹریڈنگ میں کافی سرمایہ لگا رکھا تھا۔ بہرحال، یہ سب تو بٹ کوائن کی دنیا میں ہوتا رہتا ہے، قیمتیں بہت تیزی سے کم زیادہ ہوتی ہیں لیکن کرپٹو مارکیٹ کو جو سب سے بڑا خطرہ درپیش ہے وہ ہے حکومتوں کی جانب سے کوئی قدم اٹھانا، جو سمجھتی ہیں کہ کرپٹو کرنسی غیر قانونی کاموں میں استعمال ہو رہی ہے اور اس کے ذریعے منی لانڈرنگ بھی کی جا رہی ہے۔

قیمتوں میں یہ تازہ ترین کمی شاید اس بدترین خبر کے بعد آئی کہ گوگل جون سے کرپٹو کرنسی کے حوالے سے کوئی اشتہار نہیں لگائے گا۔ رواں سال کے اوائل میں ہم فیس بک کو بھی ایسا ہی اعلان کرتا دیکھ چکے ہیں۔

کیا بٹ کوائن مزید زوال کا شکار ہوگا یا پھر یہ بحال ہو جائے گا؟ ہمارا اندازہ بھی وہی ہے جو آپ کا ہے۔ دراصل یہ جاننے کا کوئی طریقہ موجود ہی نہیں کہ کرپٹو کرنسی کی قیمت اب کون سا رخ اختیار کرے گی۔ اس لیے اگر آپ بٹ کوائن میں سرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں تو ذرا ہوشیاری سے کیجیے گا۔

بٹ کوائنکرپٹو کرنسی