چین کا ہائپرسونک جہاز، جو بیجنگ سے نیویارک پہنچے گا صرف دو گھنٹوں میں

چائنیز اکیڈمی آف سائنسز کے سائنس دانوں کی ایک ٹیم نے ایک ایسے ہائپرسونک جہاز کے تجربات کیے ہیں جو آواز کی رفتار سے 7 گنا زیادہ تیز یعنی 9 ہزار کلومیٹر فی گھنٹے کی رفتار سے پرواز کر سکتا ہے۔

چین کے جریدے فزکس، مکینکس اینڈ آسٹرونومی میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق یہ تجربہ چائنیز اکیڈمی آف سائنسز میں کی لیبارٹری آف ہائی ٹمپریچر گیس ڈائنامکس میں کیا گیا۔ یہ جہاز دیگر چینی ہائپرسونک پروگراموں، بشمول عسکری منصوبوں، کی مشترکہ تحقیق کا نتیجہ ہے جسے "ہوائی سرنگ” (wind tunnel) میں آزمایا گیا۔

یہ چین کی دیگر ہائپرسونک کامیابیوں کے ساتھ سامنے آیا ہے، جس میں ڈی ایف-17 ایچ جی وی سمیت دیگر جہازوں کی تجرباتی پروازیں شامل ہیں۔

امریکا کے ایڈمرل ہیری ہیرس پہلے ہی کانگریس کو خبردار کر چکے ہیں کہ چین عالمی ہائپرسونک ہتھیاروں کی دوڑ میں آگے نکل رہا ہے۔ ہائپرسونک جہاز اسٹریٹجک اعتبار سے جنگ کا منظرنامہ بدل سکتے ہیں۔ ان کی رفتار انہیں زیادہ رسائی بھی دے سکتی ہے اور وہ موجودہ ایئر ڈیفنس سسٹم کو بھی دھوکا دے سکتے ہیں۔ البتہ اس تجربے پر چینی سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ یہ پرامن مقاصد کے لیے ہے اور اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ یہ جہاز بیجنگ سے نیویارک صرف دو گھنٹوں میں پہنچ سکتا ہے۔

اب دیکھنا ہے یہ یہ جہاز ہوائی سرنگ سے نکل کر کب عملی صورت میں ڈھلتا ہے اور ٹیسٹ فلائٹ تک جاتا ہے۔

ہائپرسونک