ڈرون بحری جہاز امریکی بحریہ میں شامل

ایک خودکار بحری جہاز جسے Medium Displacement Unmanned Surface Vehicle یا MDUSV کہا جا رہا ہے، ڈیفنس ایڈوانسڈ ریسرچ پروجیکٹ ایجنسی (ڈارپا) نے باضابطہ طور پر امریکی بحریہ کے حوالے کردیا ہے۔

"سی ہنٹر” (Sea Hunter) نامی اس بحری جہاز پر دو سال سے ڈارپا کی جانب سے تجربات کیے جا رہے تھے اور اب آفس آف نیول ریسرچ اس پر مزید تحقیق و پیشرفت کرے گا۔

گو کہ اب تک کوئی وقت نہیں گیا کہ آخر سی ہنٹر بحری آپریشنز میں کب تک شامل ہوگا لیکن ڈارپا نے اشارے دیے ہیں کہ یہ رواں سال بھی آ سکتا ہے۔ آبدوز شکن جنگی بحری جہاز اپنی طرز کا مکمل طور پر نیا بحری جہاز ہوگا۔ ڈارپا کے فریڈ کینیڈی کہتے ہیں کہ "سی ہنٹر بحری جنگی میں ایک نیا وژن پیش کرتا ہے، انتہائی بڑے اور مہنگے چند بڑے کرداروں کے بجائے چھوٹے چھوٹے زیادہ سادہ اور موثر کردار اتارے جائیں۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے بحری شطرنج میں ‘بادشاہ’ اور ‘ملکہ’ کے بجائے پیادوں کی بڑی تعداد ہو۔

امریکی بحریہ اور ڈارپا کے درمیان اس پر تعاون 2014ء میں شروع ہوا جبکہ جہاز کا ڈیزائن اور تیاری ورجینیا میں قائم دفاعی ادارے لیڈوز نے کی۔ اسے اپریل 2016ء میں سمندر میں اتارا گیا اور کھلے پانیوں میں سخت تجربات کروائے گئے جن میں نگرانی کے ساتھ ساتھ سرنگوں کا پتہ لگانے کا کام بھی شامل تھا۔ لیکن بحریہ اس سے جو اصل کام لینا چاہتی ہے، وہ ہے آبدوزوں کا پتہ لگانا اور یہی وجہ ہے کہ اس کا نام بھی ‘سی ہنٹر’ ہے۔ امریکی نائب وزیر دفاع رابرٹ ورک کے مطابق یہ پہلا موقع ہے کہ امریکا نے مکمل طور پر بین البحری سفر کی قابلیت رکھنے والا روبوٹک جہاز بنایا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ "میں اگلے پانچ سالوں میں بغیر کسی عملے کے خود کار طور پر کام کرنے والے ان بحری جہازوں کے بیڑوں کو مغربی بحر الکاہل یا خلیج فارس میں دیکھنا چاہتا ہوں۔”

بحریہ کو امید ہے کہ مستقبل میں یہ جہاز مہینوں تک سمندر میں قیام کر سکیں گے اور بغیر کسی عملے کے ہزاروں میل کا سفر بھی کریں گے۔ اس وقت ‘سی ہنٹر’ محض نگرانی کا کام کر رہا ہے اور اس میں کوئی ہتھیار موجود نہیں۔ 127 فٹ لمبا یہ جہاز 27 ناٹس کی رفتار تک پہنچ سکتا ہے اور کیمرے اور ریڈار کا استعمال کرتے ہوئے دوسرے جہازوں کے بارے میں بتا سکتا ہے۔

بحری جہازڈرونروبوٹ