دنیا کا پہلا خلائی ہوٹل، ایک رات کا کرایہ جان کر ہوش اڑ جائیں

امریکی خبر رساں ادارے سی این این میں نشر ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق امریکی کمپنی اورائن سپین اپنا خصوصی طور پر تیار کردہ ہوٹل خلاء میں بھیجے گی۔ جو کہ پر آسائش اور تمام سہولیات سے لیس ہو گا۔ دنیا کے اس پہلے خلائی ہوٹل کو ارورا کا نام دیا گیا ہے۔

خبر کے مطابق یہ ہوٹل زمین سے اوپر 200 میل کے فاصلے پر نچلے زمینی مدار میں چھوڑا جائے گا۔ اس میں ایک وقت میں چھ افراد کے بیٹھنے کی گنجائش ہو گی۔ جن میں دو عملے کے ارکان بھی شامل ہیں۔ اس ہوٹل میں میں ایک ٹرپ 12 دنوں پر مشتمل ہو گا۔

ان بارہ دنوں کے دوران ہوٹل میں قیام کرنے والے خلائی سیاح خلاء سے زمین کے بہت ہی خوبصورت نظاروں سے لطف اندوز ہو سکیں گے۔ چونکہ یہ ہوٹل زمین کے گرد تیز رفتاری سے چکر کاٹتے ہوئے 90 منٹ میں ایک چکر مکمل کرے گا اس لیے اس پر موجود سیاح ایک دن میں سولہ بار سورج کے طلوع و غروب کا نظارہ کر سکیں گے۔ جو کہ نیلے سیارے کے گرد بہت ہی مسحور کن نظارہ ہو گا۔

کچھ عرصہ پہلے تک عام انسان کا خلاء میں جانا ایک خواب ہی سمجھا جاتا تھا۔ لیکن اسپیس ایکس، بلیو اوریجن اور ورجن گیلاٹک جیسی نجی کمپنیوں کے اس شعبہ میں آنے کے بعد یہ خواب اب حقیقت سے دور نہیں۔ بلکہ صرف دو سال کے اندر عام انسان بھی خلاء کی سیر کرنے کے ساتھ زمینی ہوٹل جیسی سہولیات سے لطف اندوز ہو سکیں گے اور صفر کشش ثقل کی کیفیت کو بھی محسوس کر سکیں گے۔ تاہم یہ سفر بہت ہی مہنگا ہے اور اس سے صرف امراء اور ارب پتی ہی مستفید ہو سکتے ہیں۔ کیونکہ خلاء میں جانے کے لیے آپ کی جیب میں بھاری رقم کا ہونا بہت ضروری ہے۔

خبر کے مطابق ارورا نامی اس خلائی ہوٹل میں ایک رات رہنے کا کرایہ 7,92,000 ڈالر جو کہ تقریبا 9 کروڑ پاکستانی روپے بنتا ہے ہو گا۔ مجموعی طور 12 روزہ دورے کی کل لاگت 9.5 ملین ڈالر یا ایک ارب روپے بنتی ہے۔ اس لیے عام پاکستانی تو فی الحال ناں ہی سمجھے۔