فیس بک کے بعد گوگل بھی زیرعتاب

ایک اخباری رپورٹ کے مطابق بچوں کے حقوق اور تحفظ کے لیے قائم کرنے والے 23 سے زائد گروپوں نے گوگل کے خلاف امریکہ کے وفاقی تجارتی کمیشن میں درخواست دائر کی ہے۔ جس میں یہ کہا گیا ہے کہ گوگل بچوں کے تحفظ کے لیے بنائے گئے قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے 13 سال سے کم عمر بچوں کے انٹرنیٹ استعمال اور ذاتی معلومات پر مشتمل ڈیٹا کو جمع کر رہا ہے۔

ان گروپوں میں "اشتہارات سے پاک بچپن” CCFC کے نامی کمپین بھی شامل ہے۔ گروپس کی جانب سے دائر کی گئی درخواست میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ گوگل کے زیر انتظام چلنے والی ویڈیو سائٹ یوٹیوب کے ذریعے بچوں کی ذاتی معلومات جمع کی جا رہی ہیں۔ باوجود اس کے کہ یوٹیوب کو تیرہ سال یا اس سے زائد عمر کے صارفین کے لیے بنایا گیا ہے، یوٹیوب استعمال کرنے والوں میں چھ سال سے تیرہ سال کے بچوں کی بھی بڑی تعداد شامل ہے۔

درخواست کے مطابق گوگل ان بچوں کی تمام معلومات مثلاً ان کی جائے رہائش، فون نمبرز، حتی کہ دیگر ویب سائٹس پر سرفنگ تک کی معلومات کو جمع کر رہا ہے۔ جو کہ امریکہ کے "بچوں کی آن لائن پوشیدگی و تحفظ” ایکٹ کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔

یوٹیوب بڑوں کے ساتھ ساتھ بچوں میں بھی یکساں مقبول ہے۔ ایک اندازے کے مطابق امریکہ میں چھ سے بارہ سال کے 80 فی صد سے زائد بچے یوٹیوب استعمال کرتے ہیں۔ یو ٹیوب کے مقبول ترین چینلز میں سے سرفہرست بچوں کے لیے بنائے گئے چینلز ہیں۔ مثلا "چو۔چو ٹی وی” جو کہ بچوں کے لیے نرسری کی نظمیں تیار کرتا ہے کے ڈیڑھ کروڑ سے زائد سبسکرائبرز ہیں۔ جبکہ اس کی ایک ویڈیو پر چودہ ارب سے زائد مناظر ہوتے ہیں۔ یہی صورت حال بچوں کے دیگر چینلز کی ہے۔

سال 2015 میں گوگل نے بچوں کے لیے علحیدہ ایپ "یوٹیوب کڈز” کے نام سے لانچ کی تھی۔ جبکہ بچوں کے متعلق نازیبا مواد کو ختم کرنے کے لیے بھی بڑے پیمانے پر کام کیا تھا۔ لیکن گوگل کے خلاف درخواست دائر کرنے والے گروپس کا کہنا ہے کہ یہ کافی نہیں ہے۔ کیونکہ اصل مسئلہ بچوں کی معلومات کا تحفظ ہے۔

درخواست گزاروں کا کہنا ہے کہ گوگل ان معلومات کو بچوں کو اشتہار دکھانے کے لیے استعمال کرتا ہے جو کہ قوانین کی صریحاً خلاف ورزی ہے نیز اس سے بچوں پر بھی منفی اثر پڑتا ہے۔ تاحال گوگل کی جانب سے اس درخواست کے حوالے سے کوئی مؤقف واضح نہیں اپنایا گیا۔