فرانس نے وزیروں کو واٹس ایپ اور ٹیلی گرام استعمال کرنے سے روک دیا

حکومت فرانس نے کہا ہے کہ وہ حالیہ موسم گرما میں اپنی انکرپٹڈ میسیجنگ سروس استعمال کرنا شروع کردے گا کیونکہ خدشہ ہے کہ ٹیلی گرام اور واٹس ایپ جیسی معروف ایپس کو استعمال کرنے پر غیر ملکی ادارے اس کے سرکاری ملازمین کی جاسوسی کر سکتے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق فرانسیسی وزراء کو غیر ملکی انکرپٹڈ ایپس کے استعمال پر خدشات ہیں، جو فرانس سے باہر سرورز رکھتی ہیں۔ ڈجیٹل وزارت کی ترجمان نے کہا کہ ہمیں ایسی انکرپٹڈ میسیجنگ سروس کی ضرورت ہے جسے امریکا یا روس نے انکرپٹ نہ کیا ہو۔ اس میں خطرات ہیں جیسا کہ فیس بک کے حالیہ معاملے سے پتہ چلا ہے، اس لیے ہم نے خود قدم اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔

ٹیلی گرام کے بانی پاول دوروف گو کہ روسی ہیں لیکن وہ جلاوطنی کی زندگی گزار رہے ہیں اور گزشتہ روز ان کی ایپ کو آبائی وطن میں پابندی کا سامنا بھی کرنا پڑا ہے۔ واٹس ایپ اینڈ-ٹو-اینڈ انکرپٹڈ ہے، اور معروف سگنل پروٹوکول استعمال کرتی ہے۔ لیکن واٹس ایپ فیس بک کی ملکیت ہے جو اس وقت بہت بڑے اسکینڈل کی زد میں ہے کہ جس میں کروڑوں صارفین کی ذاتی معلومات بغیر ان کی رضامندی کے استعمال کی گئی۔

وزارت کی ترجمان نے کہا کہ فرانسیسی حکومت کے 20 عہدیدار اور اہم سرکاری ملازمین نئی میسیجنگ ایپ پر تجربات کر رہے ہیں، جو رواں سال موسم گرما میں حکومت کی جانب سے استعمال کرنا لازمی ہو جائے گی۔ بالآخر اسے تمام شہریوں کے لیے بھی پیش کیا جائے گا۔

ٹیلی گرامواٹس ایپ