آئی بی ایم کا سپر کمپیوٹر واٹسن کینسر کے مریضوں کو غلط علاج تجویز کررہا ہے

آئی بی ایم کا واٹسن سپر کمپیوٹر اپنی ذہانت کی وجہ سے بے حد مقبول ہے۔ یہ سپر کمپیوٹر ہر طرح کے میدان میں اپنا لوہا منوا رہا ہے۔ طبی میدان میں بھی واٹسن کی قابلیت کے چرچے ہیں۔ اسے مختلف بیماریوں کے تشخیص کے لیے کارگر سمجھا جاتا رہا ہے۔2012ء میں سولان کیٹٹرنگ کینسر سینٹر اور آئی بی ایم کے درمیان شراکت داری کا معاہدہ طے پایا تھا جس کے تحت مذکورہ سینٹر کے ڈاکٹر حضرات واٹسن کو کینسر کی تشخیص کی تربیت دیں گے۔ اُس وقت واٹسن کی قابلیت کے قصیدے پڑھے گئے اور کہا گیا کہ بہت جلد کینسر کی تشخیص اور علاج واٹسن کے ذریعے بے حد آسان ہوجائے گی۔

لیکن اب گزشتہ گرما کے دوران لکھے گئے آئی بی ایم کی دستاویزات سے پتا چلتا ہے کہ واٹسن سپر کمپیوٹر کینسر کی تشخیص اور علاج میں ناکام ثابت ہورہا ہے۔ ان دستاویزات کے مطابق واٹسن اکثر کینسر کی مریضوں کو ایسی ادویات تجویز کرتا ہے جو کہ ان کی حالت میں سدھار کے بجائے مزید بگاڑ پیدا کرتی ہیں۔ مثلاً کینسر کے ایسے مریض جسے خون بہنے کی شکایت کا سامنا ہو، کو واٹسن ایسی دوا تجویز کرتا ہے جو کہ خون بہنے کے عمل کو مزید تیز کرسکتی ہے۔ یاد رہے کہ واٹسن کی تجویز کردہ ادویات اصل مریضوں کو نہیں دی جاتیں اور یہ سب فرضی طور پر ہوتا ہے۔

جوپیٹر ہاسپٹل فلوریڈا کے ایک ڈاکٹر نے تو واٹسن کو غلاضت کا ٹکڑا قرار دیتے ہوئے کہا کہ واٹسن زیادہ تر مواقع پر غلط ثابت ہوتا ہے۔

یہ حقائق آئی بی ایم کے اینڈریو نورڈن (Norden) کی ایک پریزینٹیشن سے سامنے آئے ہیں جو آئی بی ایم واٹسن کے سابق ڈپٹی ہیلتھ چیف تھے۔ دوسری جانب آئی بی ایم کے ترجمان نے Gizmodo کو بتایا کہ کینسر کے علاج میں واٹسن اب تک 84 ہزار مریضوں کی معانت کرچکا ہے اور اب بھی سیکھنے کے عمل سے گزررہا ہے۔