بھارت کا قومی ڈیٹابیس ہیکرز کے رحم و کرم پر

بھارت کا آدھار ڈیٹابیس ایک قومی سسٹم ہے جس میں ایک ارب سے زیادہ بھارتی شہریوں کا ذاتی ڈیٹا اور بایومیٹرک معلومات موجود ہیں۔ گو کہ اس میں شمولیت رضاکارانہ ہے، کم از کم ابھی تک تو، لیکن بینک اکاؤنٹ کھولنے یا قرضوں کے لیے درخواست دینے، ٹیکس ریٹرن فائل کرنے اور جائیداد کی خرید و فروخت کے لیے اس میں اندراج ضروری ہے۔ لیکن آدھار سسٹم سکیورٹی معاملات پر بارہا کمزور ثابت ہوا ہے اور اب معلوم ہوا ہے کہ بھارت کی شہری معلومات کے اس نظام میں ایک اور مسئلہ ہے، جسے ابھی تک حل نہیں کیا گیا۔

نئی دہلی میں مقیم ایک سکیورٹی ریسرچر کرن سینی نے اس خامی کا پتہ چلایا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ ریاستی نظام میں ڈیٹا لیک کسی بھی شخص کو آدھار اراکین کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کا موقع دے رہا ہے۔ نام، آدھار شناختی نمبر اور بینک معلومات سب کچھ غیر محفوظ ہیں۔

اس حوالے سے ZDNet نے بھارتی حکام کے ساتھ رابطہ کرنے کے لیے ایک ماہ کوشش کی اور کوئی جواب نہ پا کر نیو یارک میں موجود بھارتی قونصل خانے سے رابطہ کیا۔ دو ہفتے مسئلے کے بارے میں بتانے میں لگے، لیکن اب تک اسے حل نہیں کیا گیا۔ تادم تحریر بھی اس نظام میں یہ خامی موجود ہے۔

ماضی میں بھی آدھار سسٹم میں سکیورٹی مسائل پائے گئے ہیں۔ رواں سال کے اوائل میں ایک بھارتی اشاعتی ادارے نے واٹس ایپ پر ایک عہدیدار سے آدھار ایڈمنسٹریٹر آئی ڈی اور پاس ورڈ خریدا تھا۔ اس پر 8 ڈالرز سے بھی کم خرچہ آیا اور صرف 20 منٹ لگے اور نظام تک ایسی رسائی ملی کہ کوئی بھی آدھار نمبر ڈالیں اور اس شخص کے نام، پتے، تصویر، فون نمبر اور ای میل ایڈریس تک رسائی حاصل کرلیں۔

آدھار کو سکیورٹی کی انہی خامیوں کی وجہ سے بارہا تنقید کا نشانہ بننا پڑا ہے اور بھارتی سپریم کورٹ اس وقت آدھار کی آئینی حیثیت کو بھی جانچ رہی ہے۔

آدھار ڈیٹابیسڈیٹابیسسیکیورٹی