جنوری بدترین مہینہ، بٹ کوائن کو 50 ارب ڈالرز کا نقصان

بٹ کوائن اندھا منافع دیتا ہے اور اندھ دھند نقصان بھی کر دیتا ہے۔ گزشتہ سال بٹ کوائن کی قیمت میں ایک ہزار فیصد اضافہ ہوا، بلکہ دیگر کرپٹو کرنسیاں تو اور بھی زیادہ تناسب سے بڑھیں اور لوگ ارب پتی ہوگئے۔ لیکن نئے سال کا آغاز بالکل مختلف رہا۔ صرف جنوری میں ہی بٹ کوائن کو 50 ارب ڈالرز کا نقصان ہوا۔

دسمبر میں اپنے عروج پر بٹ کوائن کی جو قیمت تھی، جنوری میں اس کی آدھی بھی نہیں رہ گئی۔ گزشتہ ماہ کے اختتام تک ایک بٹ کوائن کی قیمت 10 ہزار ڈالرز سے بھی گرگئی۔ اگر صرف ایک مہینے کو دیکھیں تو جنوری کرپٹو کرنسی کی تاریخ کا بدترین مہینہ تھا۔ فروری بھی اچھا نظر نہیں آرہا ، تادم تحریر ایک بٹ کوائن کی قیمت گرتے گرتے صرف 8368 ڈالرز تک پہنچ گئی ہے۔

کرپٹو کرنسی مارکیٹ کو ایشیا میں قانونی ضابطوں میں لانے کی خبروں کی وجہ سے بدترین بحران کا سامنا ہے جو بٹ کوائن مائننگ اور ٹریڈنگ کا سب سے بڑا مرکز ہے۔ رہی سہی کسر فیس بک پر کرپٹو کرنسی کے اشتہارات پر پابندی جیسی خبروں نے پوری کردی ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ ان حالات میں کرپٹو کرنسی مارکیٹ کیسے زندہ رہتی ہے۔

بٹ کوائنکرپٹو کرنسی