جاپانی کرپٹو کرنسی ایکسچینج ہیک،400 ملین ڈالرز کا نقصان

جاپان کے سب سے بڑے کرپٹو کرنسی ایکسچینجز میں سے ایک “کوائن چیک”ہیکرز کے ہاتھوں لٹ گیا ہے جو تقریباً 400 ملین ڈالرز مالیت کی کرپٹو کرنسی لے اڑے ہیں۔

کوائن چیک کا کہنا ہے کہ اس واقعے کے بعد اس نے NEM نامی کرنسی جمع کرانے اور نکلوانے کا بالکل محدود کردیا ہے۔ خبروں کے مطابق 500 ملین NEM ٹوکنز غیر قانونی طور نکالے گئے ہیں اور یہ بھی نہیں معلوم کہ یہ واردات کس طرح ہوئی ہے۔ اب ایکسچینج ٹریڈنگ اور کرنسی نکلوانے کو بند کرکے یہ معلوم کر رہا ہے کہ آخر گم ہونے والی ڈجیٹل کرنسی گئی کہاں؟ ساتھ ہی اس کا کہنا ہے کہ جن صارفین کا نقصان ہوا ہے، وہ ان کا ازالہ کرنے کو تیار ہے۔

NEM بٹ کوائن، ایتھیریئم یا لائٹ کوائن جیسی ہی ایک ڈجیٹل کرنسی ہے اور اس وقت حجم کے اعتبار سے دنیا کی دس بڑی کرپٹو کرنسیوں میں شمار ہوتی ہے۔ اندازے کے مطابق اس ہیک میں دو لاکھ 60 ہزار صارفین کا کل 46.3 ارب ین کا نقصان ہوا ہے۔

کوائن چیک کا کہنا ہے کہ NEM زیادہ محفوظ کولڈوالٹ کے بجائے ایک ہاٹ والٹ میں محفوظ تھے، جس کی وجہ تکنیکی دشواریاں اور کرپٹو کرنسی سنبھالنےوالے عملے کی کمی تھی۔ بہرحال، اب اس کوتاہی کی سزا عملے کو بھگتنا پڑے گی۔ یہ واقعہ کرپٹوکرنسی معاملے میں سکیورٹی کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔

یہ بالکل ویسا ہی ہیک ہے جیسا 2014 میں Mt Gox چوری میں کیا گیا تھا۔ اس واقعے میں چوروں نے 400 ملین ڈالرز کے بٹ کوائن چرائے تھے، اور جاپانی کوائن ایکسچینج کا دیوالیہ نکل گیا تھا۔

نئی چوری اس واقعے سے تو کہیں بڑی واردات ہے لیکن اب کرپٹو کرنسی کی مارکیٹ اتنی پھیل چکی ہے کہ شاید ہی اس ہیک کا مارکیٹ پر کوئی اثر پڑے۔ البتہ سکیورٹی اقدامات کے لیے ضرور کام کیا جائے گا۔

کرپٹو کرنسیہیکنگ