مائیکروسافٹ نے گوگل کو پیچھے چھوڑ دیا

مائیکروسافٹ نے مارکیٹ ویلیو کے اعتبار سے تین سال میں پہلی بار گوگل کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔

مائیکروسافٹ کی موجودہ ویلیو 753 ارب ڈالرز ہے، جبکہ الفابیٹ (گوگل کا مالک ادارہ) 739 ارب ڈالرز کی قدر رکھتا ہے۔ یہ مائیکروسافٹ کو ایپل اور ایمیزن کے بعد دنیا کا تیسرا سب سے بڑا قابل قدر ادارہ بناتا ہے۔ البتہ یہ محض عارضی کامیابی ہوگی۔

گوگل نے 2012ء میں مائیکروسافٹ کو پیچھے چھوڑا تھا اور حالیہ چند سالوں میں متعدد بار دونوں نے ایک دوسرے کو پیچھے چھوڑا ہے۔ پھر بھی یہ ظاہر کرتا ہے کہ پانچ سال قبل سابق سی ای او اسٹیو بامر کی جانب سے ریٹائرمنٹ لینے کے بعد سے ادارے نے اپنے حصص کی قیمت کو کتنا بہتر بنایا ہے۔

موجودہ سی ای او ستیا نڈیلا کے عہدہ سنبھالنے کے بعد سے اب تک چار سالوں میں مائیکروسافٹ اپنے حصص کی قیمت میں دوگنی کر چکا ہے۔ نڈیلا نے مائیکروسافٹ کی کراس-پلیٹ فارم ٹیکنالوجیز، کلاؤڈ، مصنوعی ذہانت پر دوبارہ توجہ دی اور کوانٹم کمپیوٹنگ اور مکسڈ ریالٹی ہیڈسیٹس کے مستقبل کو محفوظ بنانا چاہتے ہیں۔ نڈیلا نے مائیکروسافٹ کے ناکام ونڈوز فون منصوبے کا خاتمہ کیا۔

گو کہ مائیکروسافٹ اب بھی ایپل اور ایمیزن سے پیچھے ہیں جو مارکیٹ میں بالترتیب 923 ارب اور 782 ارب ڈالرز مارکیٹ کیپ رکھتے ہیں۔ یہ مختلف کاروباروں سے آمدنی حاصل کرتا ہے۔ گوگل اپنی 90 فیصد آمدنی اشتہارات سے لیتا ہے جبکہ آئی فون ایپل کی کل آمدنی کا لگ بھگ 60 فیصد دیتا ہے۔ مائیکورسافٹ کی حالیہ سہ ماہی رپورٹ کے مطابق اس کی ونڈوز، سرفیس اور گیمنگ کے شعبے تقریبا 35 فیصد آمدنی کے حامل ہیں جبکہ کلاؤڈ 30 فیصد اور آفس اور دیگر 30 فیصد سے زیادہ آمدنی دیتے ہیں۔

اس وقت مائیکروسافٹ کے حصص کی قیمت 100 ڈالرز فی شیئر کو چھو رہی ہے۔ چند تجزیہ کاروں کو ماننا ہے کہ کمپنی کا کلاؤڈ بزنس آئندہ چند سالوں میں دوگنا ہو سکتا ہے جو ادارے کو 1 ٹریلین مارکیٹ ویلیو حاصل کرنے میں مدد دے گا۔

گوگلمائیکروسافٹ