ناسا نے کیا ننھے نیوکلیئر ری ایکٹر کا کامیاب تجربہ

اگر زمین کے گرد چکر لگانے والے بین الاقوامی خلائی اسٹیشن سے آگے جانا ہے تو اس کے لیے امریکی خلائی تحقیقاتی ادارے ‘ناسا‘ کو زبردست توانائی کی ضرورت پڑے گی کیونکہ اسی کے ذریعے وہ خلا بازوں کو زندہ اور صحت مند رکھ سکے گا۔ ناسا نے گزشتہ دنوں اسی پیچیدہ مسئلے کے حل کے لیے ایک بڑا قدم اٹھایا ہے۔ خلائی ادارے اور امریکا کے محکمہ توانائی کے نیشنل نیوکلیئر سکیورٹی ایڈمنسٹریشن نے ایک نئے نیوکلیئر ری ایکٹر پاور سسٹم کا کامیاب تجربہ کیا ہے جو چاند، مریخ اور خلاء میں کہیں بھی جانے والے طویل دورانیے کے مشن کے لیے کافی توانائی فراہم کر سکتا ہے۔

مریخ کا سفر اب بہت دور نہیں ہے۔ ایلون مسک کی اسپیس ایکس جیسے نجی ادارے دوبارہ قابل استعمال راکٹ پر کام کر رہے ہیں تاکہ خلائی سفر پر آنے والی لاگت کو کم کیا جائے اور یوں خلائی تحقیق کو آسان بناتے ہوئے انسانوں کو دوسرے سیاروں پر بھی بھیجا جا سکے۔

اس تجربے کو کلوپاور ری ایکٹر یوزنگ اسٹرلنگ ٹیکنالوجی (KRUSTY) کا نام دیا گیا تھا، اور یہ نیواڈا میں نیشنل سکیورٹی سائٹ پر نومبر 2017ء سے مارچ 2018ء تک جاری رہا۔

ناسا کے قائم مقام ایسوسی ایٹ ایڈمنسٹریٹر اسپیس ٹیکنالوجی مشن ڈائریکٹوریٹ جم رائٹر نے کہا کہ "محفوظ، موثر اور وافر توانائی مستقبل کی روبوٹ اور انسانی خلائی جستجو کے لیے اہم ہوگی۔ مجھے امید ہے کہ کلوپاور پروجیکٹ چاند اور مریخ پر توانائی کے بنیادی ڈھانچوں کا اہم حصہ ہوگا۔”

اس تجربے کا مقصد ظاہر کرنا تھا کہ یہ سسٹم فژن پاور کے ساتھ بجلی پیدا کر سکتا ہے اور چاہے جس ماحول میں بھی ہو، مستحکم اور محفوظ ہے۔ کرسٹی ایک چھوٹا اور ہلکے وژن کا ری ایکٹر ہے جو نیوکلیئر فژن کے ذریعے توانائی پیدا کرتا ہے۔ یہ ایک کنٹرولڈ چین ری ایکشن ہوتا ہے جو یورینیئم-235 کو توڑ کر توانائی بناتا ہے۔ ناسا کہتا ہے کہ کرسٹی 10 کلوواٹ بجلی پیدا کر سکتا ہے جو چند گھروں کو کم از کم 10 سال تک کے لیے کافی توانائی دے گا۔ ناسا کو توقع ہے کہ ایسے چار یونٹس کسی بھی خلائی آبادی کو کافی بجلی فراہم کر سکتے ہیں۔

یہ پاور سسٹم چاند کے لیے تو بہترین ہے کہ جہاں سورج کی روشنی سے توانائی حاصل کرنا مشکل ہے کیونکہ چاند کی راتیں زمین کی 14 راتوں کے برابر ہوتی ہیں۔

ناسانیوکلیئر