پاس ورڈ کا خاتمہ کردیا جائے گا، مائیکروسافٹ کا اعلان

صارفین کو ہزارہا مرتبہ خبردار کیا گیا ہے لیکن ہر بار یہی پتہ چلتا ہے کہ عوام میں مقبول ترین پاس ورڈز مضحکہ خیز حد تک فضول اور ناکارہ ہیں۔ یہ پاس ورڈز ہیکرز کے لیے آسان بنا دیتے ہیں کہ وہ صارفین کے اکاؤنٹ چوری کریں اور آج بھی ڈیٹا کھونے کا سب سے بڑا سبب ناقص پاس ورڈز ہی ہیں۔ یہی وجہ ہےکہ مائیکروسافٹ نے اعلان کردیا ہے کہ اب پاس ورڈز کو ختم کرنے کا وقت قریب آ گیا ہے۔

معروف امریکی ٹیکنالوجی کمپنی کہتی ہے کہ پاس ورڈز کمپیوٹنگ کے ابتدائي دور کی یادگاریں ہیں، جو اب اتنے کارآمد نہیں رہے۔ پھر پاس ورڈز کو بارہا تبدیل کرنا اور ہر بار مشکل سے مشکل تر بنانا بھی ایک اضافی مشق ہے اور اس کے باوجود یہ مکمل طور پر محفوظ حل نہیں ہے۔

مائیکروسافٹ کے چیف انفارمیشن سکیورٹی بریٹ آرسینالٹ کا کہنا ہے کہ کئی دہائیوں سے ٹیکنالوجی صنعت کی توجہ ڈیوائسز کو زیادہ محفوظ بنانے پر ہے لیکن اس کے لیے جو طریقہ زیر استعمال رہا ہے، اب اسے بہتر بنانے کی ضرورت ہے کیونکہ موجودہ طریقہ کافی و شافی نہیں ہے۔ لیکن اگر صارف کو ہی پاس ورڈ بنا دیا جائے تو سکیورٹی کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔”

یہی وجہ ہے کہ پاس ورڈ مسئلے کو حل کرنے کے لیے مائیکروسافٹ نے "ونڈوز ہیلو” متعراف کروایا جو چہرے، انگلیوں کے نشانات یا آنکھ کی پتلی کو اسکین کرکے صارف کی شناخت کی تصدیق کرتا ہے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ یہ سہولت اس کے بیشتر ملازمین استعمال کرتے ہیں اور ونڈوز 10 کے وہ 70 فیصد صارفین بھی عام پاس ورڈز کی جگہ ونڈوز ہیلو استعمال کرتے ہیں، جن کے پاس بایومیٹرک سہولت موجود ہے۔

مائیکروسافٹ FIDO کے بورڈ آف ڈائریکٹرز میں بھی شامل ہے یعنی Fast Identity Online Alliance میں جو انٹیل اور گوگل جیسے بڑے اداروں کے ساتھ مل کر پاس ورڈ کی جگہ دیگر ٹیکنالوجیز کو رائج کرنے پر کام کر رہا ہے، جن میں بایومیٹرکس اور موبائل حل بھی شامل ہیں ۔

لیکن حقیقت یہ ہے کہ ونڈوز ہیلو بھی غلطیوں سے پاک نہیں، کم از کم اس آپریٹنگ سسٹم کے پرانے ورژنز میں تو ایسا دکھائی دیا ہے۔ گزشتہ ماہ جرمن سکیورٹی ادارے SYSS نے پایا تھا کہ ایک پرنٹ شدہ تصویر کے ذریعے اس کی چہرہ پہچاننے کی ٹیکنالوجی کو دھوکا دیا جا سکتا ہے۔ البتہ یہ کام صرف ان ونڈوز 10 سسٹمز پر ممکن تھا جو اپڈیٹ شدہ نہیں تھے۔

بایومیٹرک تصدیق کے لیے کام کرنے والا دوسرا بڑا ادارہ ایپل ہے جو فیس آئی ڈی سسٹم پر کام کر رہا ہے اور اگلے سال سے کمپنی کی دیگر ڈیوائسز میں بھی نظر آئے گا۔

پاس ورڈمائیکروسافٹونڈوز