ٹیلی گرام کے خلاف عدالتی فیصلہ، فوری طور پر بند کرنے کا اعلان

روس کی ایک عدالت نے میسیجنگ ایپ ‘ٹیلی گرام‘ کے خلاف فیصلہ دیتے ہوئے اسے فوری طور پر بند کرنے کا حکم صادر کیا ہے۔ یہ فیصلہ ٹیلی گرام اور روس کے ٹیلی کمیونی کیشنز ادارے Roskomnadzor کے درمیان کئی ماہ تک جاری رہنے والی قانونی جنگ کا نتیجہ ہے۔ دراصل روس کی وفاقی سکیورٹی سروس FSB ٹیلی گرام کے ڈیٹا تک رسائی چاہتی تھی جس کے لیے اسے انکرپشن کیز درکار تھیں۔ لیکن ٹیلی گرام نے ایک عدالتی فیصلے کے باوجود ایسا کرنے سے انکار کردیا تھا۔

قومی خبر رساں ادارے Tass کے مطابق میسیجنگ سروس کو اب ملک میں فوری طور پر بلاک کردیا جائے گا اور یہ پابندی تب تک برقرار رہے گی جب تک ٹیلی گرام FSB کو انکرپشن کیز نہیں دے گا۔

روس نے 2016ء میں انسداد دہشت گردی کے سخت قوانین نافذ کیے تھے جن کے مطابق میسیجنگ سروسز کے لیے لازمی ہے کہ وہ حکام کو پیغامات ڈیکرپٹ کرنے کی صلاحیت دیں۔ ٹیلی گرام ان قوانین کے خلاف کام کر رہا تھا۔

اس فیصلے کے بعد ٹیلی گرام کے بانی اور سی ای او پاول دوروف کا زوردار بیان سامنے آیا ہے، جن کا کہنا ہے کہ ٹیلی گرام کو نہ ہی آمدنی کی پروا ہے اور نہ ہی اسے اشتہارات بیچنے ہیں۔ پرائیویسی برائے فروخت نہیں اور انسانی حقوق کا دفاع بغیر کسی خوف اور لالچ کے کرنا چاہیے۔

واضح رہے کہ پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی نے بھی ملک میں ٹیلی گرام کو تا حکم ثانی بند کر رکھا ہے۔

ٹیلی گرام