ٹرمپ ٹوئٹر پر کسی کو بلاک نہیں کر سکتے، عدالتی فیصلہ

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ ٹوئٹر کے بڑے دلدادہ ہیں اور یہاں ہنگامے بھی کھڑے کرتے رہتے ہیں، خاص طور پر ان کی لوگوں کو بلاک کرنے کی عادت بڑی پرانی ہے۔ لیکن اب امریکا میں ایک عدالت نے فیصلہ دیا ہے کہ یہ حرکت امریکی آئین کے تحت عوامی حقوق کی خلاف ورزی ہے اور اس لیے امریکی صدر کسی کو ٹوئٹر پر بلاک نہیں کر سکتے، بلکہ اب تک جتنے افراد کو بلاک کیا ہے، انہیں بھی اَن بلاک کرنا ہوگا۔

یہ معاملہ گزشتہ سال جون میں تب کھڑا ہوا تھا جب آزادی اظہار کے ایک گروپ نے ڈونلڈ ٹرمپ کو خط بھیجا تھا کہ وہ ٹوئٹر پر تمام بلاک کیے گئے اکاؤنٹس کو اَن بلاک کریں۔ ان کا دعویٰ تھا کہ جنہیں بلاک کیا گیا ہے یہ اُن کو آئینی طور پر ملنے والے آزادی اظہار کے حق کی خلاف ورزی ہے۔

ٹرمپ انتظامیہ نے اس کا جواب نہیں دیا جس کے بعد ایسے 7 ٹوئٹر صارفین کی مدعیت میں نیو یارک کی ایک ضلعی عدالت میں مقدمہ دائر کیا گیا، جنہیں صدر مملکت بلاک کر چکے تھے۔ اس مقدمے میں اہم ترین بات یہ تھی کہ ٹوئٹر کو عوامی فورم سمجھا جائے یا نہیں؟ عدالت نے فیصلہ دیا کہ یہ عوامی فورم ہے جس کا مطلب ہے کہ صدر کی جانب سے کسی بھی صارف کو بلاک کرنا غیر آئینی ہے اور یہ حقوق کی خلاف ورزی ہے۔

ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وہ اپنے ذاتی اکاؤنٹ سے ٹوئٹ کرتے ہیں اس لیے "پبلک فورم” والی بات یہاں لاگو نہیں ہوتی۔ لیکن عدالت نے ان سے عدم اتفاق کیا اور یہ فیصلہ دیا ہے۔ اب دیکھتے ہیں ٹرمپ صاحب آگے کیا کرتے ہیں؟

ٹوئٹرڈونلڈ ٹرمپ