اوبر کمپنی کی جانب سے ہیکرز کو ڈیٹا چرانے پر لاکھوں ڈالرز ادا کرنے کا انکشاف

بین الاقوامی کاروباری خبر رساں ادارے بلوم برگ کی ایک رپورٹ کے مطابق اوبر کی جانب سے گزشتہ سال ہیکرز کو کمپنی کی چوری شدہ معلومات ڈیلیٹ کرنے کے لیے ایک لاکھ ڈالر سے زائد خطیر رقم دی گئی تھی۔
یہ رقم اس وقت ادا کی گئی جب اکتوبر 2016 میں ہیکرز نے اوبر کے سرورز سے ڈرائیورز اور صارفین کا زاتی ڈیٹا چرایا۔

ایک اندازے کے مطابق اوبر کے چھ لاکھ سے زائد ڈرائیورز کے لایئسنس سمیت ان کی دیگر زاتی معلومات اور دنیا بھر میں پھیلے ہوئے 57 ملین صارفین کے فون نمبرز اور ای۔میل ایڈریس پر مشتمل ڈیٹا چرایا گیا۔

اوبر کمپنی کے اس وقت کے چیف سیکیورٹی آفیسر جوسلیوون نے اس معاملے کو انتہائی حد تک خفیہ رکھنے کی کوشش کی۔ تاہم بلوم برگ پر یہ رپورٹ شائع ہونے کے اگلے ہی دن اوبر کے چیف ایگزیکٹو آفیسر داراخسروشاہی نے ایک پریس ریلیز کے ذریعے اس بات کی تصدیق کی کہ ہیکرز کمپنی سرورز سے مطلوبہ معلومات چرانے میں کامیاب ہو گئے تھے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ فرانزک تجزیے کے بعد اس بات کے کوئی ثبوت نہیں ملے کہ صارفین کے کریڈٹ کارڈ نمبرز اور سوشل سیکیورٹی نمبرز جیسی حساس معلومات بھی چرائی گئی ہوں۔

رپورٹ کے مطابق مداخلت کاروں (ہیکرز) نے گٹ-ہب پر اوبر کے انجینئرز کی لاگ-ان معلومات استعمال کرتے ہوئے ایمیزون کے کلاؤڈ سرورز تک رسائی حآصل کی جہاں اوبر کمپنی کا تمام ڈیٹا محفوظ کیا جاتا ہے۔ یہاں یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ اوبر جیسی کمپنی کی حساس معلومات ایک تیسری کمپنی کے پاس بغیر انکرپشن کے رکھی گیئں تھیں۔

رپورٹ سامنے آنے کے بعد اوبر کمپنی کی ساکھ کو سخت دھچکا لگا ہے۔ اور دنیا بھر میں پھیلے ہوئے کمپنی صارفین و ملازمین شش و پنج کا شکار ہیں کہ ان کی ذاتی معلومات کسی بھی وقت ہیکرز کے استعمال میں آ سکتی ہیں۔ تاہم اوبر انتظامیہ کا کہنا ہے واقعے کی مکمل تحقیقات کے لیے امریکہ کے قومی سلامتی ادارے سے منسلک ماہرین کی خدمات حاص کی گئی ہیں۔ تاکہ مستقبل میں ایسے کسی بھی واقعے کا سدباب کیا جا سکے اور صارفین کے اعتماد کو بحال رکھا جا سکے۔

اوبرہیکنگ