وائی فائی پروٹوکول میں گزشتہ ایک دہائی کی سب سے بڑی تبدیلی

گزشتہ تقریباً ایک دہائی سے وائی فائی آلات میں وہی پرانا سیکیورٹی پروٹوکول استعمال کیا جا رہا ہے جسے پہلی بار سال 2004 میں متعارف کروایا گیا تھا۔ لیکن بدلتے وقت کے تقاضوں اور جدید آلات کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے وائی فائی الائنس نے بھی بالآخر دس سال پرانے سیکیورٹی پروٹوکول کو تبدیل کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

وائی فائی الائنس نے سیکیورٹی پروٹوکول کے نئے ورژن WPA3 کو میعاری تسلیم کرتے ہوئے اس پروٹوکول پر مبنی وائی فائی آلات کی تصدیق کا عمل شروع کر دیا ہے۔

اس نئے پروٹوکول میں تحفظ کے حوالے سے کئی بڑی تبدیلیاں کی گئیں ہیں۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ اب ہیکرز بار بار "تکا لگانے” کی تکنیک سے وائی فائی پاسورڈ کو چرا نہیں سکیں گے۔ نیز ایک اور فیچر کی وجہ سے ہیکرز پاسورڈ حاصل ہونے کے باوجود وائی فائی کا آزادانہ استعمال نہیں کر سکیں گے۔

عام صارفین کے لیے پروٹوکول میں تبدیلی سے خاص فرق نہیں پڑے گا۔ کیونکہ وہ پہلے کی طرح پاسورڈ لگا کر وائی فائی سے منسلک ہو سکیں گے۔ البتہ آلات کی سیکیورٹی میں نمایاں تبدیلی آئے گی۔

یہاں اس بات کا تذکرہ کرنا دلچسپی سے خالی نہیں ہو گا کہ WPA3 وائی فائی پروٹوکول ایک آدھ دن میں نافذ نہیں ہو گا۔ بلکہ اسے حقیقی طور پر نافذ کرنے میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔ اس کے لیے پہلے تو آپ کو WPA3 پروٹوکول کے حامل وائی فائی راؤٹر خریدنا پڑیں گے (یا پھر پہلے سے موجود راؤٹرز کو اپڈیٹ کرنے کی سہولت متعارف ہو سکتی ہے)۔ اس کے بعد یہی صورتحال وائی فائی استعمال کرنے والے آلات کے ساتھ پیش آئے گی۔ کیونکہ انہیں بھی WPA3 سے لیس ہونا پڑے گا تا کہ بہتر سیکیورٹی تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔

سیکیورٹی ماہرین کے مطابق یہ نیا WPA3 پروٹوکول اور اس پر مبنی آلات رواں سال سے ہی مارکیٹ میں متعارف ہو جائیں گے۔ تاہم اس کا وسیع پیمانے استعمال اگلے سال سے شروع ہو سکے گا جب 802.11ax اسٹینڈرڈ عملی طور پر نافذ ہو گا۔ جسے وائی فائی کا مستقبل قرار دیا جا رہا ہے۔