شیاؤمی می 8، آئی فون کی بدترین نقل

چینی اسمارٹ فون کمپنی شیاؤمی نے اپنا نیا فلیگ شپ اسمارٹ فون ‘می 8‘ جاری کردیا ہے۔

شیاؤمی کو بارہا اس الزام کا سامنا کرنا پڑا ہے کہ وہ ایپل کی نقل کرتا ہے، لیکن حالیہ کچھ عرصے میں اس نے ڈیزائن معاملات کچھ آزادی دکھائی ہے۔ شیاؤمی کے فون می-مکس کو اپنے ڈیزائن کی وجہ سے بہت داد ملی لیکن می 8 نے سب کچھ بدل دیا ہے، جو ڈیزائن کے لحاظ سے آئی فون ٹین کی واضح نقل ہے۔

می 8 شیاؤمی کا پہلا فون ہے جس میں notch ہے۔ بلاشبہ کئی اداروں نے ایپل کی اس "جدّت” کو نقل کیا ہے لیکن شیاؤمی کی نئی ڈیوائس نے تو حد ہی کردی ہے۔ یہاں تک کہ نام میں بھی اس نے ایپل کی نقل کی ہے۔ ایپل نے فون بنانے کے دسویں سال میں آئی فون ٹین جاری کیا جبکہ شیاؤمی نے می 6 کے بعد اس لیے می 8 کے نام سے یہ فون جاری کیا کیونکہ یہ کمپنی کا آٹھواں سال ہے۔

پھر پشت پر دیکھیں تو ڈوئیل کیمرے بھی بالکل ویسے ہی لگے ہیں جیسا کہ آئی فون ٹین میں ہیں۔ سافٹویئر دیکھیں تو ٹیلی کام سگنل، بیٹری بار اور وائی فائی سگنل انڈیکیٹر بھی اسی جگہ پر ہیں جہاں آئی فون ٹین کے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایپل کے شیدائیوں کو تو یہ فون بہت برے لگے گا لیکن وہ افراد جو ایک ہزار ڈالرز خرچ نہیں کرنا چاہتے، ان کے لیے یہ بہترین فون ہوگا۔

می 8 میں 6.21 انچ کی ایمولیڈ اسکرین ہے، 20 میگاپکسل کا سیلفی کیمرا اور انفراریڈ ٹیکنالوجی بھی، جو صارف کا چہرہ اسکین کرکے فون کو ان لاک کرتی ہے۔ ڈوئیل کیمروں میں سے ہر ایک 12 میگاپکسل کا ہے۔

البتہ می 8 میں ایک چیز منفرد ہے، یہ دنیا کا پہلا فون ہے جس میں کویلکوم کا اسنیپ ڈریگن 845 چپ سیٹ لگا ہوا ہے۔ یہ ڈوئیل جی پی ایس بھی استعمال کرتا ہے یعنی کہ لوکیشن ڈیٹا بہترین نتائج دیتا ہے۔

یہ فون 5 جون سے چین میں فروخت کے لیے دستیاب ہوگا، جس کے تین مختلف ورژنز پیش کیے جائیں گے۔ بین الاقوامی سطح پر پیش کرنے کی تاریخیں ابھی ظاہر نہیں کی گئی، جیسا کہ شیاؤمی ہمیشہ نہیں کرتا۔ می 8 کا اسٹینڈرڈ ورژن 420 ڈالرز کا ہے جبکہ 5.88 انچ کا ‘SE’ ماڈل پیش 280 ڈالرز کا ہوگا۔

شیاؤمیشیاؤمی می 8
تبصرے (0)
Add Comment