اینڈرائیڈ iOS سے بہت پیچھے

2,648

اینڈرائیڈ بلاشبہ دنیا کا سب سے مقبول آپریٹنگ سسٹم ہے لیکن جس پہلو سے وہ iOS سے کافی پیچھے ہے، وہ ہے اس کی بیشتر ڈیوائسز پر بہت پرانا آپریٹنگ سسٹم ہونا۔ گو کہ اس کا الزام گوگل کو نہیں دیا جا سکتا بلکہ یہ تو فون بنانے والوں کا کام ہے کہ وہ اپنی ڈیوائسز پر نیا آپریٹنگ سسٹم لائیں۔ لیکن اعداد و شمار دیکھیں تو اینڈرائیڈ بہت پیچھے دکھائی دیتا ہے۔ Statista کے مطابق اس وقت 25 فیصد اینڈرائیڈ ڈیوائسز ایسی ہیں جن میں نصب اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم 2014ء کا ہے۔

یہاں دیکھیں، آپ کو نظر آ رہا ہوگا کہ صرف 7 فیصد iOS صارفین ایسے ہیں جو 2016ء سے پہلے کا آپریٹنگ سسٹم استعمال کر رہے ہیں۔ گوگل کے تو 17 فیصد صارفین ایسے ہیں جو 2014ء سے بھی پیچھے ہیں یعنی فونز اور ٹیبلٹس کی بڑی تعداد ایسی ہو جو فرسودہ آپریٹنگ سسٹم استعمال کر رہی ہے۔

اس وقت اینڈرائیڈ استعمال کرنے والی سب سے زیادہ ڈیوائسز نوگیٹ پر ہیں جن کی تعداد 29 فیصد ہے۔ یہ ورژن اگست 2016ء میں جاری کیا گیا تھا اور مارش میلو پر 28 فیصد صارفین ہیں جو اکتوبر 2015ء میں جاری ہوا۔ کل 57 فیصد اینڈرائیڈ ڈیوائسز ایسا آپریٹنگ سسٹم چلا رہی ہیں جو ایک سال سے زیادہ پرانا ہے۔ صرف 1 فیصد اینڈرائیڈ صارفین اوریو پر ہیں جو گوگل کا پیش کردہ تازہ ترین آپریٹنگ سسٹم ہے جبکہ جدید ترین iOS 11 پر 65 فیصد ایپل صارفین موجود ہیں۔ یہ دونوں آپریٹنگ سسٹم پچھلے سال موسم گرما میں جاری ہوئے تھے اور فرق آپ کے سامنے ہے۔

سام سنگ، سونی اور LG جیسے ادارے سکیورٹی اپڈیٹس تو پیش کرتے رہتے ہیں لیکن بالکل نیا سام سنگ گلیکسی S9 بھی رواں سال آنے والے صرف اینڈرائیڈ پی پر ہی اپگریڈ ہوگا اور کبھی اینڈرائیڈ Q کی شکل نہیں دیکھے گا۔ ایپل صارفین کو یقین ہے کہ انہیں کم از کم دو سال تک اپڈیٹس ملتی رہیں گی۔

یہ بھی ذہن میں رکھیں کہ iOS 11 آئی پیڈ ایئر اور آئی فون 5S جیسی پرانی مصنوعات کو بھی سپورٹ دیتا ہے جو 2013ء کی ہیں یعنی کہ پانچ سال تک اپگریڈ پا رہی ہیں۔ اس لیے ایپل کے چاہے جتنے بھی مسائل ہوں لیکن اس معاملے میں کوئی بھی اس کا دور دور تک مقابل نہیں۔