اینڈرائیڈ فون خریدنے کے لیے نیو یارک میں لمبی قطاریں

2,086

ون پلس نے اپنے جدید ترین ون پلس 6 اسمارٹ فون کی نیو یارک میں فروخت کا آغاز کردیا ہے جس کے لیے طویل قطاریں دیکھی گئیں۔

دیکھا گیا کہ صبح ساڑھے چھ بجے سے ہی قطاریں لگنا شروع ہو گئی تھیں، حالانکہ اسٹور کھلنے میں ابھی 12 گھنٹے سے بھی زیادہ کا وقت باقی تھا۔ کئی لوگوں نے تو اپنے دفتر سے چھٹیاں کیں اور نیو جرسی اور لانگ آئی لینڈ جیسے دور دراز علاقوں سے آکر بھی یہ فون خریدنے کے لیے قطار میں لگے۔ ویسے قطار میں اٹلی سے آنے والے سیاح بھی دیکھے گئے۔

یہاں اتنی لمبی قطاریں صرف ایپل کے آئی فون کی خریداروں کی ہی دیکھی گئی ہیں۔ بہت کم ہی اینڈرائيڈ فونز کے لیے صارفین میں اتنا جوش و جذبہ دیکھا گیا ہے۔ ون پلس کے مطابق 11 ممالک کے 26 شہروں میں 15 ہزار افراد فون کے لیے قطار میں کھڑے ہوئے۔

اس کے باوجود یہ بہت مقبول ڈیوائس نہیں ہے۔ نیو یارک شہر میں آپ کو عام افراد کے پاس سام سنگ اور ایپل ڈیوائسز ہی زیادہ نظر آئیں گی۔ یہاں تک کہ اسٹور کے قریب سے گزرنے والے افراد بھی قطار دیکھ کر حیران تھے کہ یہ آخر "ون پلس” ہے کیا کہ جس کے لیے اتنے لوگ کھڑے ہیں؟

لیکن مشہور نہ ہونے کے باوجود بلاشبہ یہ ون پلس 6 ایک شاندار اسمارٹ فون ہے جو ایک ہزار ڈالرز کے آئی فون کو ٹکر دے سکتا ہے۔ اس میں وائرلیس چارجنگ یا واٹرپروف ہونے جیسی خصوصیات تو نہیں جیسا کہ آئی فون ٹین میں ہیں، لیکن ون پلس ان لمبی قطاروں میں کھڑے شائقین کو ان فیچرز کی پروا بھی نہیں۔ ان کی اکثریت ون پلس 6 کی کم قیمت، 530 ڈالرز، اور جاندار پرفارمنس کی وجہ سے موجود تھی۔

ویسے قطار میں کھڑے چند افراد کے ہاتھوں میں تو سام سنگ گلیکسی ایس 9 بھی دیکھا گیا، جسے لانچ ہوئے ابھی چند مہینے ہی گزرے ہیں اور اس میں ہر وہ فیچر ہے جو اس وقت کسی جدید فون میں ہونا چاہیے۔ اس کے باوجود وہ ون پلس 6 لینا چاہتے ہیں – ایک ایسا فون جس میں کم فیچرز ہیں۔ کیوں؟

اس کا جواب ہے "خالص اینڈرائیڈ”، ون پلس کی ڈیوائسز میں عام طور پر اینڈرائیڈ کا وہ سادہ اور شفاف ورژن ہوتا ہے، ویسا ہی جیسا گوگل پکسل 2 میں ہوتا ہے۔ سام سنگ میں اینڈرائیڈ کا خالص ورژن نہیں ہے اور یہی وجہ ہے کہ اس میں آپریٹنگ کی سسٹم کی وہ رفتار نہیں مل سکتی جو ون پلس جیسے فونز میں ملتی ہے۔