اینڈرائیڈ ویئر کا نام تبدیل کرکے ‘ویئر او ایس’ رکھ دیا گیا

1,073

اینڈرائیڈ ویئر گوگل کا وہ منصوبہ ہے جسے وہ ویئریبل کے میدان پر قبضے کے لیے اُٹھانا چاہتا تھا لیکن اب تک ایسی کوئی پیشرفت نہیں کی، جس کی بنیاد پر گوگل کچھ دعوے کر سکے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ گوگل نے اس سافٹ ویئر کا نام تبدیل کرکے "ویئر او ایس” کردیا ہے۔یہ خبر ایک ایسے موقع پر آئی ہے جب گھڑیوں کی صنعت کے لیے دنیا کے سب سے بڑے تجارتی میلے باسل ورلڈ کا آغاز ہونے والا ہے ۔ ہو سکتا ہے کہ اس موقع پر گوگل کا سافٹویئر چلانے والی چند گھڑیاں سامنے آئیں۔

گوگل کے ڈینس ٹروپر نے اپنے بلاگ میں یہ قدم اٹھانے کی وجوہات کی جانب اشارہ دیا اور کہا ہے کہ اس وقت ہر تین میں سے ایک اینڈرائیڈ ویئر صارف آئی فون بھی استعمال کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گوگل کے ویئریبل نظام کو اینڈرائیڈ سے دُور لے جایا جا رہا ہے تاکہ اس مخمصے کو دور کیا جا سکے کہ صارفین یہ سمجھتے ہیں کہ کوئی بھی ویئریبل ان کے پلیٹ فارم، جیسا کہ آئی او ایس، پر کام نہیں کرے گا۔

اس وقت اسمارٹ واچ کے زیادہ تر صارفین آئی او ایس کے ہی ہیں اور یہی وجہ ہے کہ گوگل نئے برانڈ کو پیش کرکے یہ یقینی بنانا چاہتا ہے کہ ہر کوئی جان لے کہ ویئر او ایس ایک وسیع پلیٹ فارم ہے اور کسی ایک آپریٹنگ سسٹم تک محدود نہیں۔

لیکن کیا صرف نیا نام اختیار کرلینا ہی کافی ہوگا؟ ہر گز نہیں، کوگل کو اپنے شراکت داروں کے ساتھ اس میدان پر قبضہ جمانے کے لیے بہت کچھ کرنا ہوگا جہاں ایپل واچ کی حکمرانی ہے۔

گزشتہ سال ستمبر میں تجزیہ کاروں نے بتایا تھا کہ 33 ملین افراد نے ایپل واچ خریدی ہیں جبکہ اینڈرائیڈ ویئر کے کل صارف صرف 10 ملین تھے۔