ایپل اور انٹیل کا بریک اپ

1,951

ایپل اور انٹیل کا ساتھ ایک دہائی سے بھی زیادہ پرانا ہے۔ جس میں ایپل کی تمام ڈیسک ٹاپ مصنوعات یعنی میک کمپیوٹرز اور لیپ ٹاپس میں انٹیل کی تیار کردہ پراسیسر چپس استعمال کی جاتی رہی ہیں۔ لیکن لگتا ہے ایپل نے اس ساتھ کو خیر باد کہنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

بلوم برگ میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق ایپل آئندہ اپنے میک کمپیوٹرز اور لیپ ٹاپس کے لیے انٹیل کی بجائے اپنی تیار کردہ پراسیسر چپس استعمال کرے گا۔ گو کہ انٹیل کی کور پراسیسر لائن ہمیشہ سے ہی جدت کی جانب مائل رہی ہے لیکن ایپل کے "ایک چپ پر مکمل نظام” پر مبنی آئی فونز نے لیپ ٹاپس کی رفتار کو بھی مات دی ہے۔ اور اسی بات کو مد نظر رکھتے ہوئے ایپل نے انٹیل کی بجائے اپنی چپس پر مکمل انحصار کرنے کا فیصلہ کیا ہے

انٹیل ہمیشہ سے ہی مؤر کے قانون کو سچ ثابت کرنے کی کوششوں میں لگا رہا ہے۔ جس کے مطابق ایک چپ پر پراسیسر کی تعداد ہر سال دگنی ہونی چاہیے۔ لیکن بدقسمتی کے ساتھ 2015 میں اس قانون کے نقطہء انجذاب پر پہنچنے کے بعد اینٹل کے پاس مستقبل کا کوئی واضح لائحہ عمل نہیں ہے۔ حال ہی میں انٹیل نے 14 نینو میٹر پراسیسر کی کامیابی کے بعد آئندہ ونڈوز کے لیے 10 نینو میٹر پراسیسر متعارف کروانے کا دعویٰ کیا تھا۔ لیکن جسامت میں کمی کے باوجود انٹیل کے پراسیسر ARM کے تیار کردہ پراسیسرز جیسی کارکردگی دکھانے میں ناکام رہے ہیں جو کہ اس پر بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ایپل دراصل اپنی تمام مصنوعات یعنی میک بک، آئی فون، ائیر پوڈ، ہوم پوڈ وغیرہ کو ایک یکساں نظام کے ساتھ مربوط کرنا چاہتا ہے۔ ایپل کی خواہش ہے کہ اس کے تیار کردہ تمام آلات مشترکہ طور پر ایک مرکز سے کنٹرول ہوں۔ اسی مقصد کے لیے ابتدائی طور پر ایپل نے اپنے آئی فون کے لیے کوالکوم کی بجائے اپنی چپس تیار کرنا شروع کیں۔ اس کے علاوہ ایپل گرافکس پراسیسر اور فیس آئی ڈی نظام وغیرہ بھی دیگر کمپنیوں کی بجائے اپنے طور پر بنا رہا ہے۔ یہی نہیں بلکہ اطلاعات یہ بھی ہیں کہ ایپل خفیہ طور پر مائیکرو ایل ای ڈی اسکرین بھی اپنے طور پر تیار کر رہا ہے جسے ایپل کی آئندہ آئی واچ میں نصب کیا جائے گا۔

بلوم برگ رپورٹ کے مطابق ایپل کمپنی کی خواہش ہے کہ آئندہ ایپل کے میک کمپیوٹرز اور لیپ ٹاپس بھی آئی او ایس آپریٹنگ سسٹم پر چلائے جائیں جو کہ اس وقت موبائل آلات میں کامیابی سے استعمال ہو رہا ہے۔ لیکن آئی او ایس سسٹم کو چلانے کے لیے انٹیل کے x86 تعمیری نظام کی بجائے ARM پراسیسرز کہیں زیادہ کارآمد ہیں۔ اس بات کو اس خبر سے بھی تقویت ملتی ہے جس کے مطابق ایپل نے ڈیسک ٹاپ کمپیوٹرز میں استعمال ہونے والے اپنے دیرینہ آپریٹنگ سسٹم میک او ایس کی تیاری روک دی ہے۔ اور فی الحال میک او ایس محافظت (Maintenance) موڈ میں ہے۔

یہاں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ اس سارے منظرنامے میں انٹیل کہاں کھڑا ہے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ انٹیل آج بھی وہیں کھڑا ہے جہاں ایک دہائی پیشتر تھا۔

اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ انٹیل مصنوعات میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ یقینا انٹیل نے بدلتے حالات کے مطابق اپنے ہارڈوئیر میں جدت لانے کی کوشش کی ہے۔ لیکن اس کے تیار کردہ نظاموں کا انحصار ڈیسک ٹاپ پر ہی مرکوز ہے۔ حالانکہ ڈیسک ٹاپ کے طاقتور ترین اور پروفیشنل کام بھی اب موبائل آلات پر آسانی سے ہونے لگے ہیں۔

حال ہی میں گوگل نے بھی موبائل آلات کے لیے اپنی چپس بنانے کا اعلان کیا ہے۔ جبکہ انٹیل کے دیرینہ پارٹنر مائیکروسافٹ نے بھی یہ عندیہ دیا ہے کہ آئندہ ونڈوز ARM پراسیسرز پر چلائی جائے گی۔ گویا یہ کہا جا سکتا ہے کہ پوری دنیا اب موبائل آلات اور ان کے آپسی ارتکاز کی جانب مبذول ہو رہی ہے۔ نیز ایپل نے بھی اسی جدت پسندانہ لہر میں بہنے کا فیصلہ کر لیا ہے جبکہ انٹیل کی نگاہیں آج بھی ڈیسک ٹاپ پر ہی ٹکی ہیں۔ جس کا خمیازہ ایپل جیسی بڑی کمپنی کے ساتھ دس سالہ رفاقت ٹوٹنے کی صورت میں بھگتنا پڑا ہے۔