مصنوعی ذہانت نیوکلیئر ہتھیاروں سے بھی زیادہ خطرناک قرار

1,499

ٹیکنالوجی کی دنیا کے معروف نام ایلون مسک مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) کے شعبے میں ہونے والی ترقی پر بہت پریشان ہیں۔ SXSW فلم فیسٹیول اور آسٹن، ٹیکساس میں ایک ٹیک کانفرنس کے دوران سوال و جواب کے سیشن میں مسک نے کہا کہ اِس وقت انہیں دو چیزوں نے بہت پریشان کر رکھا ہے، ایک ٹیسلا ماڈل 3 کی پیداواری دشواریاں اور دوسرا مصنوعی ذہانت کے خطرات۔

انہوں نے مصنوعی ذہانت سے لیس گوگل کے کمپیوٹر ‘الفا گو’ کا حوالہ دیا کہ جس نے چین کے قدیم کھیل ‘گو’ میں مہارت حاصل کی اور دنیا کے بہترین گو کھلاڑی کو فیصلہ کن شکست دی، اور پیشن گوئی کی کہ 2019ء کے اختتام تک مصنوعی ذہانت تمام سیلف ڈرائیونگ کارز میں "ہر قسم کی ڈرائیونگ” کرنے کے قابل ہو جائے گی۔ انہوں نے خیال پیش کیا کہ ٹیسلا کا آٹو پائلٹ 2.0 دو سالوں کے اندر اندر انسانوں سے کم از کم 100 سے 200 فیصد زیادہ محفوظ ہوگا اور ایک دن ایسا آئے گا کہ ڈرائیور سوتا رہے گا اور گاڑی خود بخود منزل پر پہنچے گی۔

مسک نے کہا کہ میرے خیال میں مصنوعی ذہانت کے خطرات جوہری ہتھیاروں کے خطرے سے بھی بڑے ہیں، کیونکہ دونوں صورتوں میں کرۂ ارض سے انسانوں کی نسل کا خاتمہ ہو سکتا ہے۔ اس لیے 10 لاکھ انسانوں کا مریخ پر آباد ہونا ضروری ہے تاکہ تیسری عالمی جنگ کے خطرے سے بچا جا سکے۔