مصنوعی ذہانت سے درپیش حقیقی خطرات

1,021

مصنوعی ذہانت کی صنعت اور علمی دنیا سے وابستہ ماہرین نے 100 صفحات پر مشتمل ایک رپورٹ میں واضح پیغام دیا گیا ہے: اس شعبے میں اچھے لوگوں کی طرف سے کی جانے والی ہر پیشرفت بُرے لوگوں کے لیے بھی ایک ہتھیار بن جائے گی۔

"مصنوعی ذہانت کا منفی استعمال: پیش بینی، تحفظ اور تخفیف” نامی یہ رپورٹ اسے مصنوعی ذہانت کا "دُہرا استعمال” کہتی ہے یعنی ہر سیکنڈ میں ہزاروں پیچیدہ فیصلے کرنے کی ٹیکنالوجی لوگوں کی مدد کے ساتھ ساتھ انہیں نقصان پہنچانے کے لیے بھی استعمال ہو سکتی ہے، فرق ہوگا صرف اسے ڈیزائن کرنے والے شخص کی سوچ اور ارادے کا۔ ماہرین نے مصنوعی ذہانت کے ناقص استعمال کو تین حصوں میں تقسیم کیا ہے: ڈجیٹل، مادّی اور سیاسی۔

ان نقصانات کی فہرست میں نے کچھ ہم نے منتخب کیے ہیں:

ڈجیٹل:

• خودکار phishing، یا جعلی ای میلز، ویب سائٹس تخلیق کرنا تاکہ معلومات چرائی جا سکیں۔

• تیز تر ہیکنگ، سافٹویئر میں خامیوں کی خودکار دریافت کےذریعے

• اے آئی سسٹمز کو بے وقوف بنانا، مصنوعی ذہانت دنیا کو کس طرح دیکھتی ہے، اس میں خامیوں کا فائدہ اٹھانے کے ذریعے

مادّی:

• خودکار دہشت گردی، کمرشل ڈرونز یا خودکارگاڑیوں کو بطور ہتھیار استعمال کرتے ہوئے

• روبوٹس کا جُھنڈ، کئی خودکار روبوٹس کو ایک ہی ہدف حاصل کرنے کے لیے جمع کرنا

• ریموٹ حملہ، کیونکہ خودکار روبوٹس کو کسی بھی فاصلے سے کنٹرول کرنے کی ضرورت نہیں رہے گی۔

سیاسی:

• پروپیگنڈا، آسانی سے بنائی جانے والی جعلی تصاویر اور وڈیوز کے ذریعے

• اختلاف کو خودکار طور پر ختم کرنا، آٹومیٹک انداز میں متن اور تصاویر کو تلاش کرنے اور انہیں مٹانے کے ذریعے

• ذاتی ترغیب، عام دستیاب معلومات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کسی کی رائے کو ہدف بنانا۔

رپورٹ نے ہمارے ممکنہ مستقبل کی ایک بھیانک تصویر کھینچی ہے، جو زیادہ پریشان کن اس لیے ہے کیونکہ یہ صرف اگلے اگلے پانچ سالوں کے دورانیے میں ہونے جا رہا ہے۔ لیکن صرف ایسا نہیں ہے، سائنس دان پہلے ہی ان مسائل کے ممکنہ حل پر کام کر رہے ہیں، البتہ یہ چوہے بلّی کا کھیل ہوگا یہ وہ بھی جانتے ہیں۔