مصنوعی ذہانت رکھنے والے روبوٹس نیوکلیئر سائٹس کا معائنہ کریں گے

1,064

کچھ کام ایسے ہوتے ہیں جو انسانوں کے لیے تو بہت ہی خطرناک ہیں جن میں سب سے خطرہ ہے نیوکلیئر صفائی میں۔ اس لیے انسانوں کو محفوظ رکھنے کے لیے تیار کیے جا رہے ہیں روبوٹس، وہ بھی ایسے جو فیصلہ سازی کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ اس کام میں مدد کے لیے یونیورسٹی آف لنکن کے سائنس دانوں نے ایک گرانٹ حاصل کی ہے تاکہ مصنوعی ذہانت سے لیس ایسا نظام تشکیل دیں جن سے نیوکلیئر سائٹس پر بھیجے گئے روبوٹس خود سیکھنے کی صلاحیت پائیں۔

ٹیم کو یو کے انجینیئرنگ اینڈ فزیکل سائنس ریسرچ کونسل کی جانب سے ڈیڑھ ملین ڈالرز کی گرانٹ ملی ہے کہ وہ مشین لرننگ AI بنائے۔ یہ الگورتھمز روبوٹس کو ایسے مقامات پر مشینیں بند کرنے، نیوکلیائی فضلے کو سنبھالنے اور سائٹ کی نگرانی کرنے جیسے مشکل کام کرنے میں مدد دیں گے۔ سائنس دان ایسے مقامات کی نقشہ سازی اور آمدورفت میں آسانی کے لیے مصنوعی ذہانت بنائیں گے اور ساتھ ہی وژن-گائیڈڈ گرفت، پکڑنے اور کاٹنے کے لیے مشینیں بھی۔ ان کا ہدف ہے ایسے روبوٹس بنانا جو مشین لرننگ سے لیس ہوں اور ریڈیو ایکٹو نیوکلیئر مقامات میں کام کر سکیں۔

سائنس دان نیوکلیائی کام کو محفوظ بنانے کے لیے دیگر شعبوں پر بھی توجہ دے رہے ہیں جیسا کہ AR (آگمینٹڈ ریالٹی) پر، البتہ یہ ابھی واضح نہیں کہ یہ عملی صورت میں کیسی ہوگی؟ ایک اور منصوبہ ہے بائی-مینوئل بازو کا جو ایک موبائل پلیٹ فارم پر نصب کیا جائے گا۔ انسان ریموٹ کنٹرول سے اس روبوٹ کو چلا سکتے ہیں یا پھر اسے آزادانہ طور پر اپنا کام خود کرنے کی اجازت بھی دے سکتے ہیں کہ وہ زیادہ اہم فیصلے اپنے بل بوتے پر کرے۔

نیوکلیئر سائٹس کو سنبھالنے کے لیے روبوٹس کی تیاری میں کچھ وقت لگ سکتا ہے لیکن 2011ء میں جاپان میں ہونے والے سانحہ فوکوشیما کے بعد سے ایسے روبوٹس کا استعمال جاری ہے۔ وہ الگ بات یہ روبوٹس اپنا کام کرنے میں ناکام رہے اور سخت حالات میں ان کی وائرنگ تک پگھل گئی، جس سے کئی مسائل پیدا ہوئے۔

خود سے سیکھ کر کام کرنے والے روبوٹس کی تیاری ذرا بہتر خیال لگتا ہے کیونکہ اس سے وہ اپنے لیے اچھا فیصلہ لے سکیں گے۔ یہ تبھی ممکن ہے کہ جب روبوٹس میں فیصلہ سازی کا اتنا دم ہو، یہ بھی ہو سکتا ہے کہ خود فیصلہ لینے کی طاقت رکھتے ہوئے وہ ریڈیو ایکٹو علاقے میں جانے سے ہی انکار کردیں۔