بچوں کے اسنیپ چیٹ استعمال پر پابندی لگائیں

843

انگلینڈ میں بچوں کی بہبود کے لیے کام کرنے والی ایک عہدیدار نے کہا ہے کہ والدین اپنے بچوں کو اسنیپ چیٹ کے استعمال سے روکیں۔

چلڈرن کمشنر اینی لونگ فیلڈ نے کہا ہے کہ دن کے اوقات میں کافی اسکول اسنیپ چیٹ کے استعمال پر پابندی لگا چکے ہیں اور اب والدین کو بھی یہی قدم اٹھانا چاہیے۔ چلڈرن کمشنر کی حیثیت سے لونگ فیلڈ برطانوی سیاست دانوں کے روبرو نوجوانوں کے مسائل پیش کرتی ہیں اور وہ یہ کام آزادانہ طور پر کرتی ہیں۔ انہوں نے اسنیپ چیٹ کے "streak” فیچر کو بالخصوص تنقید کا نشانہ بنایا ہے جو صارفین کو اکساتا ہے کہ وہ اپنے دوست کو مسلسل تین دن پیغامات بھیجیں۔ اسنیپ چیٹ اسٹریک کرنے والے صارفین کے ناموں کے ساتھ ایموجیز ظاہر کرتا ہے اور اس عمل کو جاری رکھنے کے لیے انہیں 24 گھنٹے کے دورانیے میں لازماً پیغامات کا تبادلہ کرنا ہوتا ہے۔

لونگ فیلڈ نے کہا کہ "یہ خاص طور پر اسنیپ چیٹ ہے جس میں وہ سب کچھ ہے جس سے صارفین کو لت لگ جائے کہ انہیں دوستی کو برقرار رکھنے کے لیے کچھ کرنا ہے۔ اس لیے والدین کے لیے یہی کہوں گی اگر آپ کو مکمل یقین نہ ہو تو اپنے بچوں کو اسنیپ چیٹ استعمال نہ کرنے دیں۔

لونگ فیلڈ نے گزشتہ ہفتے بچوں پر سوشل میڈیا کے منفی اثرات پر ایک رپورٹ بھی جاری کی تھی جس میں بتایا گیا تھا کہ سوشل میڈیا پر رہنے کی وجہ سے بچے خود کو دباؤ میں محسوس رہتے ہیں اور سماجی قبولیت کے لیے انہیں ‘لائیکس’ حاصل کرنے کی ضرورت پڑتی ہے۔

فیس بک، ٹوئٹر اور اسنیپ چیٹ پر "پابندی” ہے کہ صرف 13 سال سے زائد عمر والے افراد ہی اس پر سائن اپ ہو سکتے ہیں، لیکن رپورٹ نے پایا کہ 10 سے 12 سال کے تین چوتھائی بچے سوشل میڈیا اکاؤنٹس رکھتے ہیں۔ ان میں سب سے مشہور چار ایپس ہیں اسنیپ چیٹ، انسٹاگرام، واٹس ایپ اور وڈیو ایپ میوزیکل.لی۔