بے جا ہارن بجانے والوں کو پکڑنے کے لیے کیمرے لگا دیے گئے

878

چین دنیا میں سب سے زیادہ آبادی رکھنے والا ملک ہے اور دارالحکومت بیجنگ بھی بہت گنجان آباد ہے۔ شہر میں پانچ لاکھ سے کہیں زیادہ گاڑیاں ہیں اور دیگر بڑے شہروں میں عام طور پر جس رفتار سے سفر ہوتا ہے، بیجنگ میں اس میں دوگنا وقت لگ جاتا ہے۔ یہی نہیں بلکہ فضائی آلودگی کے ساتھ شور کی آلودگی بھی بہت بڑا مسئلہ ہے، اتنا بڑا کہ بیجنگ دنیا کا چھٹا سب سے زیادہ شور رکھنے والا شہر ہے۔

اس گمبھیر صورت حال میں اب تبدیلی آنے والی ہے کیونکہ گزشتہ سال آزمائشی منصوبے کے بعد بیجنگ ٹریفک مینجمنٹ بیورو نے شہر بھر میں 20 ایکوسٹک کیمرے نصب کردیے ہیں جو ہارن بجانے والی گاڑیوں کی نشاندہی کر سکتے ہیں۔

اسکولوں اور ہسپتالوں کے قریب نصب یہ کیمرے، 23 مائیکروفون اور ایچ ڈی کیمرے کا استعمال کرکے دو سیکنڈ کی وڈیو بناتے ہیں اور ہارن بجانے والی ہر گاڑی کی نمبر پلیٹ کی تصویر محفوظ کر لیتے ہیں۔ پھر پولیس فوٹیج کا جائزہ لے گی جس سے طے کیا جائے گا کہ گاڑی نے ہارن بلاوجہ تو نہیں بجایا تھا؟ اس صورت میں اس کے ڈرائیور پر 16 ڈالرز کا جرمانہ عائد کیا جائے گا۔

via GIPHY

شور کی آلودگی محض بیجنگ کی سڑکوں تک محدود نہیں۔ شینژین سمیت تقریباً 40 شہروں نے یہ ایکوسٹک کیمرے انسٹال کیے ہیں تاکہ وہ بے جا ہارن بجانے والے ڈرائیورز کو پکڑ سکیں اور ان کی درستگی کی شرح 92 سے 95 فیصد ہے۔

عالمی ادارۂ صحت کے مطابق چین میں صرف 2013ء میں سڑکوں پر دو لاکھ 60 ہزار سے زیادہ اموات ہوئیں، جو اسے ڈرائیورز کے لیے دنیا کے خطرناک ترین شہروں میں سے ایک بناتی ہیں۔

گو کہ فی الوقت یہ ٹیکنالوجی ڈرائیور کو فوری طور پر نہیں پہچان سکتی لیکن ممکن ہے کہ ایکوسٹک کیمرے کے ساتھ آئندہ فیشل ریکگنیشن ٹیکنالوجی بھی شامل کردی جائے اور یوں ڈرائیور کو جاننا اور بھی آسان ہو جائے۔