بڑے اسکینڈلز، بڑی کمپنیاں سر جوڑ کر بیٹھ گئیں

1,527

پاکستان میں انٹرنیٹ پر صارفین کی معلومات کے تحفظ کے حوالے سے آگاہی نا ہونے کے برابر ہے۔ اسی بناء پر ایسی خبروں میں دلچسپی بھی کم ہی لی جاتی ہے۔ ویسے بھی ہمیں ایسی خبروں کی اہمیت کا تب ہی اندازہ ہوتا ہے جب وکی لیکس یا پانامہ لیکس وغیرہ جیسے اسکینڈلز منظر عام پر آئیں۔ البتہ بین الاقوامی طور پر انٹرنیٹ صارفین کے حوالے سے ایسا نہیں ہے۔

فیس بک سمیت دیگر کمپنیوں کے پے در پے ڈیٹا اسکینڈلز سامنے آنے کے بعد دنیا بھر خصوصاً ترقی یافتہ ممالک میں صارفین کی ذاتی معلومات کے تحفظ کے حوالے سے ایک بڑی لہر اٹھی ہے۔ جس نے بڑی بڑی کمپنیوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے اور صارفین کے بے پناہ دباؤ کے آگے جھکنے پر مجبور کر دیا ہے۔ بات یہاں تک آ پہنچی ہے کہ دنیا کی تمام بڑی کمپنیاں صارفین کی معلومات کے تحفظ کے لیے سر جوڑ کر بیٹھ گئی ہیں۔

"ایکسیوس” پر شائع ہونے والی خبر کے مطابق بین الاقوامی اطلاعاتی صنعت ATI کے زیر انتظام بدھ کے روز ہونے والے اجلاس میں دنیا بھر کی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں جن میں ایپل، سام سنگ، گوگل، مائیکروسافٹ، فیس بک، کوالکوم اور ڈراپ باکس جیسی کمپنیاں شامل ہیں، کے نمائندگان شرکت کریں گے۔ اور اس بارے میں غور کریں گے کہ آن لائن صارفین کی معلومات کے تحفظ کو کس طرح یقینی بنایا جا سکتا ہے کہ یہ غیر ہاتھوں میں منتقل نا ہو سکیں۔

واضح رہے کہ اسی حوالے سے یورپ نے GDPR کے نام سے نئی اور سخت پالیسیاں وضع کی ہیں۔ جن کی وجہ سے امریکہ سمیت دیگر ممالک کے صارفین نے اعتراض اٹھایا ہے کہ انہیں بھی ان پالیسیوں کے مساوی حقوق فراہم کیے جائیں۔ اسی دباؤ کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ اجلاس مقرر کیا گیا ہے جس میں امریکی حکومت کے نمائندگان معاملے کے قانونی پہلوؤں پر بھی مشاورت کریں گے۔