بیٹری ہنگامہ، ایپل معذرت خواہ

1,289

پرانے آئی فونز کے سست ہو جانے کے معاملے پر پیدا ہونے والی "غلط فہمی” پر ایپل معذرت کر رہا ہے اور ساتھ ہی اعلان کیا ہے کہ وہ اس نقصان کی تلافی کرے گا۔

صارفین کے نام ایک خط میں ایپل کا کہنا ہے کہ وہ آئی فون 6 یا اس کے بعد آنے والے کسی بھی فون کے لیے رواں ماہ سے دسمبر 2018ء تک صرف 29 ڈالرز میں متبادل نئی بیٹری فراہم کرے گا۔ یہ بیٹری ویسے تو 50 ڈالرز کی ہے لیکن یہ خصوصی رعایت پر صارفین کو دی جائے گی۔ ساتھ ہی ایپل جلد ہی اپنے آپریٹنگ سسٹم آئی او ایس میں ایسے فیچرز شامل کرے گا جو صارفین کو بیٹری کی صحت کے بارے میں معلومات دیں گے تاکہ وہ اندازہ کر سکیں کہ اب ان کی بیٹریاں فون کو بہترین کارکردگی پر چلا سکتی ہیں یا نہیں۔

ویسے ایک دہائی پہلے جب پہلا آئی فون آیا تھا تو ایپل نے اس دعوے کے ساتھ لانچ کیا تھا کہ آئی فون صارفین کو کبھی اپنی بیٹری تبدیل نہیں کرنا پڑے گی۔

عرصہ ہوا آئی فون صارفین یہ سمجھتے تھے کہ ایپل نئے فونز کی فروخت بڑھانے کے لیے جان بوجھ کر پرانے فونز کو سست کرتا ہے اور اب یہ ‘سازشی نظریہ’ درست ثابت ہو چکا ہے۔ اس بیٹری ہنگامے سے جہاں ایپل کی سبکی ہوئی ہے، وہیں اسے مختلف مقدمات میں بھی گھسیٹ لیا گیا ہے۔ اس منظرنامے میں ایپل کے پاس کوئی چارہ نہ تھا کہ وہ بپھرے ہوئے صارفین کو ٹھنڈا کرنے کے لیے ایسے اقدامات اٹھائے۔

آئی فون 6، 6 ایس، ایس ای اور 7 کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان کا پروسیسر کہیں زیادہ طاقتور ہے لیکن پھر بھی وقت کے ساتھ ساتھ اس کی کارکردگی میں زوال آ جاتا ہے۔ ہوا دراصل یہ تھا کہ آئی او ایس 10.2.1 کے اجراء سے قبل اگر آئی فون 6 میں اگر بیٹری پروسیسر کو درکار طاقت فراہم نہ ہوتی تھی تو وہ بند ہو جاتا تھا۔ اس اچانک بندش کو روکنے کے لیے ایپل نے اس اپڈیٹ میں یہ "خصوصیت” شامل کی کہ فون بند ہونے کے بجائے سست ہو جائے یعنی صارفین کو "پاور مینجمنٹ” کے نام پر نئی مصیبت جھیلنا پڑی۔ ایپل کا اصرار ہے کہ وہ بیٹری کی زندگی بڑھانے اور فون کو بند ہونے سے بچانے کے لیے یہ کام کرتا تھا۔ لیکن معاملہ صرف پروسیسر کی رفتار کا نہیں تھا بلکہ صارفین نے اسکرین کی روشنی کا گھٹ جانا، اسپیکر کی آواز کم ہو جانا یہاں تک کہ کیمرے کی فلیش بند ہو جانا تک بھگتا ہے اور بھگت رہے ہیں۔ اب بھی اس مصیبت سے جان چھڑانے کے لیے انہیں 29 ڈالرز کی چپت برداشت کرنا ہوگی۔