بٹ کوائن کے پانچ مقابل، تیزی سے آگے بڑھتی کرپٹو کرنسیاں

2,893

کرپٹو کرنسی بٹ کوائن کی قیمتیں ہر روز نئے ریکارڈز قائم کر رہی ہیں بلکہ اگر یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ معلوم تاریخ میں شاید ہی کسی کرنسی کی قیمت میں اتنا ڈرامائی اضافہ ہوا ہو۔ 2013ء میں ایک بٹ کوائن کی قیمت صرف 12 ڈالرز تھی اور اب جبکہ یہ سطریں لکھی جا رہی ہیں، تب سے آپ کے پڑھنے تک اس کی قیمت میں کتنا اضافہ (یا کمی) ہوگی؟ اس بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا۔

چاہے آپ بٹ کوائن کو پسند کرتے ہیں یا اس حوالے سے اب بھی کنفیوز ہوں لیکن حقیقت یہی ہے کہ بٹ کوائن اور دیگر کرپٹو کرنسیوں کو نظر انداز کرنا اب ممکن نہیں ہے۔ یہ کرپٹو کرنسیاں اب حکومتوں کی جاری کردہ کرنسیوں کا ڈیجیٹل متبادل پیش کر رہی ہیں۔

بٹ کوائن گو کہ استعمال میں سست ہے، اس کی ایک ٹرانزیکشن میں 10 منٹ بھی لگ جاتے ہیں، ساتھ ہی یہ خطرناک بھی ہے کیونکہ خریدار ٹرانزیکشن کے دن تک قیمت سیٹ نہیں کر سکتے کیونکہ اس قیمت میں بہت تیزی سے تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔ لیکن بلاک چین کے استعمال کی وجہ سے یہ فراڈ اور جعل سازی سے مکمل طور پر محفوظ ہے۔

پھر بھی ایک بہت بڑا حلقہ ایسا بھی ہے جو بٹ کوائن اور کرپٹو کرنسی کے ممکنہ مالیاتی خطرات کو فوائد سے زیادہ اہمیت دیتا ہے۔ جیسا کہ سرمایہ کاری کی دنیا کے بڑے نام اور وین گارڈ گروپ کے بانی جیک بوگل کہتے ہیں کہ بٹ کوائن سے ایسے دور رہے جیسے یہ وبائی مرض ہو۔ ان کا کہنا ہے کہ بٹ کوائن کا کوئی استعمال نہیں، سوائے یہ کہ آپ اس امید پر خریدیں کہ اسے زیادہ قیمت پر بیچیں گے۔

اس بلبلے کے پھٹنے سے جہاں خبردار کیا جا رہا ہے، وہیں لوگ دیوانہ وار بٹ کوائن پر لپک رہے ہیں اور اب اس کی قیمت وہاں پہنچ گئی ہے، جہاں دل سے چاہنے کے باوجود بھی خریدار دس مرتبہ سوچے گا۔ اس وقت،سنیچر کو علی الصبح ایک بٹ کوائن کی قیمت لگ بھگ ساڑھے 16 ہزار ڈالرز ہے۔ اگر آپ کرپٹو کرنسی میں سرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں تو کیوں نا بٹ کوائن کے علاوہ دوسرے آپشنز پر بھی غور کیا جائے؟

آئیے آپ کو بٹ کوائن کے مقابل سب سے بڑی پانچ کرنسیوں کے بارے میں بتاتے ہیں۔ ان سب کا کل مارکیٹ سرمایہ 5، 5 ارب ڈالرز سے زیادہ ہے۔

ایتھیریئم (Ethereum)

یہ ‘بٹ کوائن منتھلی’ کے ایک لکھاری کی جانب سے 2014ء میں شروع کی گئی کرپٹو کرنسی ہے اور اس کا مقصد مزید ڈی سینٹرلائزیشن تھا۔ ایپلی کیشن کے حوالے سے یہ بٹ کوائن سے مختلف ہے: ایتھیریئم آزاد اور ڈی سینٹرلائزڈ سافٹ ویئر پلیٹ فارم ہے، جہاں ٹرانزیکشن فیس اور سروسز کی ادائیگی کے لیے ethers کا استعمال ہوتا ہے۔ ہفتے کے دن ایک ایتھیریئم کی قیمت 455 ڈالرز تھی جبکہ اس کی کل مارکیٹ لگ بھگ 44 ارب ڈالرز تک جا پہنچی ہے۔


رپل (Ripple)

2012ء میں سابق بٹ کوائن ڈیولپرز کی جانب سے کیلیفورنیا میں بنایا گیا رپل چند صنعتی ماہرین کے مطابق بٹ کوائن کا ممکنہ جانشین ہوگا۔ یہ عالمی ادائیگی اور ترسیل زر کے نظام کے طور پر بینکوں میں بھی رائج ہو رہا ہے۔ بٹ کوائن کے مقابلے میں رپل صرف ایک کرنسی نہیں بلکہ ایک نظام ہے جس کے ذریعے کرنسی کی منتقلی اور تجارت کی جا سکتی ہے۔ نیو یارک ٹائمز کے مطابق اسے بغیر بھاری فیس کے ‘ویسٹرن یونین’ سمجھ لیں۔ سنیچر کے مطابق اس کی قیمت 0.254 ڈالرز ہے جبکہ کل مالیت 10 ارب ڈالرز تک پہنچنے والی ہے۔


آیوٹا (IOTA)

آیوٹا، جس کا نعرہ ہے “نیکسٹ جنریشن بلاک چین” کرپٹو کرنسی کے ابھرتے ہوئے شعبے میں نئے اداروں میں سے ایک ہے۔ اپنے تمام حریفوں کے مقابلے میں آیوٹا بلاک چین نیٹ ورک پر انحصار نہیں کرتا، بلکہ یہ ایک متبادل لیجر سسٹم استعمال کرتا ہے جسے ‘ٹینگل’ (Tangle) کہا جاتا ہے۔ مائیکروسافٹ، فوجٹسو اور متعدد دیگر اداروں کا شراکت دار آیوٹا خود کو انٹرنیٹ آف تھنگز سے تقویت حاصل کرنے والی پہلی مارکیٹ سمجھتا ہے۔ سنیچر کو 4.48 ڈالرز کی قیمت رکھنے والا آیوٹا 12.44 ارب ڈالرز کی مارکیٹ رکھتا ہے۔


ڈیش (Dash)

ڈیش نے اب تک مختلف نام اختیار کیے ہیں۔ جنوری 2014ء میں قیام کے وقت اس کا نام ایکس کوائن تھا۔ پھر یہ ایک عجیب سے نام ڈارک کوائن پر منتقل ہوا اور پھر “ڈجیٹل کیش” کا نام اختیار کیا جسے مختصراً ڈیش کہتے ہیں۔ یہ پرائیویسی اور بے نام ٹرانزیکشن پر یقین رکھتا ہے۔ سنیچر کے مطابق اس کی قیمت 740 ڈالرز کے قریب ہے جبکہ کل مارکیٹ 5.73 ارب ڈالرز ہے۔


لائٹ کوائن (Litecoin)

‘لائٹ کوائن’ گوگل کے ایک سابق ملازم کی ذہنی اختراع ہے اور اگر بٹ کوائن سونا ہے تو لائٹ کوائن کو چاندی سمجھ لیں کیونکہ یہ اس سے کہیں سستا بھی ہے اور باآسانی دستیاب بھی۔ لائٹ کوائن 2011ء میں جاری کیا گیا تھا، اور بٹ کوائن کا فوری متبادل سمجھا جاتا ہے۔ بڑی ٹرانزیکشنز کے مقابلے میں لائٹ کوائن ایسے افراد کو ہدف بناتا ہے جنہیں بڑی تعداد میں ہونے والی چھوٹی ٹرانزیکشنز کی ضرورت ہوتی ہے۔ 130.72 ڈالرز کی قیمت کے ساتھ اس وقت لائٹ کوائن کی مارکیٹ 7.09 ارب ڈالرز ہے۔