بٹ کوائن کی 44 فیصد ٹرانزیکشن غیر قانونی کاموں کے لیے

926

آپ کے دفتر میں ایک بندہ کرپٹوکرنسی میں دیوانگی کی حد تک داخل ہے، اس بات کے کتنے امکانات ہیں کہ وہ کسی غیر قانونی سرگرمی میں ملوث ہو سکتا ہے؟ پورے 44 فیصد! آسٹریلیا کے ایک ریسرچ گروپ نے بٹ کوائن ٹرانزیکشن ڈیٹا پر تحقیق کرنے کے بعد بتایا ہے کہ:

"ہم نے ایک چوتھائی بٹ کوائن صارفین اور تقریباً بٹ کوائن سودوں کو غیر قانونی سرگرمیوں سے منسلک پایا ہے۔ سالانہ تقریباً 72 ارب ڈالرز کی غیر قانونی سرگرمی بٹ کوائن میں ہوتی ہے، جو غیر قانونی منشیات کے لیے امریکا اور یورپ کی مجموعی مارکیٹ کے برابر ہے۔”

72 ارب ڈالرز؟ ذرا سازشی دماغ لڑائیے، کہیں یہ وہی 72 ارب ڈالرز تو نہیں جو 2018ء کے اوائل سے اب تک بٹ کوائن مارکیٹ سے نکلے ہیں؟ اتفاق؟ شاید!

بہرحال، یہ تحقیق یونیورسٹی آف سڈنی کے شان فولی، یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی سڈنی کے جوناتھن کارلسن اور ریگا میں اسٹاک ہوم اسکول آف اکنامکس کے تالس پوٹننس نے کی ہے۔ فولی اور پوٹننس پی ایچ ڈی ہیں جبکہ کارلسن ابھی ڈاکٹریٹ مکمل کر رہے ہیں۔ یہ معاشیات اور مالیات کے شعبے میں ڈیٹا سائنٹسٹ ہیں۔ انہوں نے ڈیٹا تجزیے کی دو اقسام detection controlled estimation اور network clustering کو استعمال کرتے ہوئے یہ نتائج نکالے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جہاں کرپٹوکرنسی میں تیز اور موثر لین دینے جیسے فوائد ہیں وہیں یہ غیر قانونی تجارت، دہشت گردوں کی مدد، منی لانڈرنگ اور ٹیکس سے بچنے کے لیے بھی کارآمد ہے۔

ساتھ ہی تحقیق میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ہم یہ نہیں کہہ رہے ہیں کہ کرپٹوکرنسی بلیک مارکیٹ کو بڑھاوا دے رہی ہے، لیکن اس کا مطلب ہےکہ انہی پرانے جرائم کے لیے ادائیگی کا نیا طریقہ اختیار کرلیا گیا ہے۔ ہو سکتا ہے اسی کو بہانہ بنا کرکرپٹوکرنسی کو قانونی شکنجے میں لانے کی باتیں اور بڑھ جائیں۔