بٹ کوائن مائننگ میں استعمال ہونے والی بجلی 159 ممالک سے زیادہ

1,396

رواں سال دنیا بھر میں بٹ کوائن کی "مائننگ” کرنے والے کمپیوٹرز اتنی بجلی کھا چکے ہیں جتنی 159 ممالک بھی سال بھر میں استعمال نہیں کرتے۔

یہ حیرت انگیز انکشاف برطانیہ کے ادارے ‘پاور کمپیئر’ نے اپنی تازہ ترین تحقیق میں کیا ہے جس کے مطابق بٹ کوائن مائننگ کے لیے استعمال ہونے والی بجلی افریقہ کے زیادہ تر ممالک تو کجا ترقی یافتہ آئرلینڈ کی اوسط کھپت سے بھی زیادہ ہے۔

بٹ کوائن اور کرپٹو کرنسی ڈیٹا فراہم کرنے والے ادارے ڈجی کونومسٹ کے اعدادوشمار کو استعمال کرکے ترتیب دی گئی اس رپورٹ کے مطابق بٹ کوائن مائن کرنے کے لیے رواں سال 29.05 ٹیراواٹ آور بجلی استعمال کی جا چکی ہے جبکہ سال بھر میں آئرلینڈ تقریباً 25 ٹیراواٹ آور بجلی استعمال کرتا ہے۔

آپ ان تمام 159 ممالک کی فہرست یہاں دیکھ سکتے ہیں جو بٹ کوائن کی کھائی گئی بجلی سے بھی کم توانائی استعمال کرتے ہیں۔ ایک جھلک اس نقشے پر بھی ڈالیں، جس میں وہ ممالک نمایاں ہیں جو بٹ کوائن سے پیچھے ہے۔

بٹ کوائن ایک کرپٹو کرنسی ہے جو 2009ء میں تخلیق کی گئی تھی ۔ اسے بنانے کے عمل کو مائننگ کہتے ہیں جس کے لیے صارفین زیادہ سے زیادہ طاقتور کمپیوٹرز کا استعمال کر رہے ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ بٹ کوائنز حاصل کر سکیں۔ نتیجتاً مائننگ کا عمل زیادہ سے زیادہ بجلی استعمال کر رہا ہے۔ اس وقت صرف ایک بٹ کوائن بنانے کے لیے اتنی بجلی استعمال ہونے لگی ہے، جتنی بجلی سے ایک گھر مہینے بھر چل سکتا ہے۔

آجکل بٹ کوائن مائننگ کا زیادہ تر عمل چین میں ہو رہا ہے جہاں امریکا اور برطانیہ جیسے ترقی یافتہ ممالک کے مقابلے میں بجلی کہیں سستی ہے۔ لیکن بجلی کے اتنے زیادہ استعمال کی وجہ سے ماحولیات پر اثرات پر بھی خدشات پیدا ہو رہے ہیں کیونکہ بجلی کی تیاری کے تمام طریقے ماحول دوست نہیں ہیں، بالخصوص چین میں جہاں روایتی ایندھن کے ذریعے بجلی حاصل کی جاتی ہے اور کاربن ڈائی آکسائیڈ جیسی مضر صحت گیس کا اخراج بھی زیادہ ہوتا ہے۔